خطابات مریم (جلد دوم) — Page 901
خطابات مریم 901 زریں نصائح دوسری سالانہ تربیتی کلاس لجنہ اماءاللہ راولپنڈی لجنہ اماء اللہ راولپنڈی کی دوسری سالانہ پندرہ روزہ تربیتی کلاس کے اختتامی اجلاس سے 15 اگست 1982 ء بروز اتوار دس بجے صبح حضرت سیدہ اُم متین صاحبہ نوراللہ مرقد ھالجنہ اماء الله مرکزیہ نے سورۃ ابراہیم کی پہلی آیت لف الر كِتَبُ أَنْزَلْنَهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ (سورۃ ابراہیم :1) تلاوت فرمائی۔ترجمہ: ” میں اللہ دیکھنے والا ہوں یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے تجھ پر اس لئے اُتارا ہے کہ تو تمام لوگوں کو ان کے رب کے حکم سے ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لے آئے یعنی غالب اور تعریفوں والے خدا کے راستہ کی طرف۔آپ نے فرمایا دنیا کی تعلیم کی روشنی اصل اور حقیقی روشنی ہونی چاہئے جو قرآن کریم کے علوم سیکھنے کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔آپ نے ممبرات لجنہ پر زور دیا کہ وہ بچیوں کی اعلیٰ تعلیم کے لئے کوشاں اور خواہشمند رہتی ہیں۔اُن کی بچیاں فزکس، کیمسٹری، بیالوجی اور میتھیمیٹکس سب مضامین پڑھا اور سمجھ لیتی ہیں لیکن قرآن کریم کا ترجمہ اور علوم سکھانے کے وقت کہ دیتی ہیں کہ یہ بہت مشکل ہے اُن کے پاس وقت نہیں کہ وہ اس مشکل علم کو پڑھ سکیں۔آپ نے فرمایا دنیا کے علوم بغیر قرآنی علوم کے بے کار اور بے فائدہ ہیں۔آپ نے احمدی ماؤں کو تاکید فرمائی کہ اپنی بچیوں کی دینی تعلیم و تربیت پر بہت زور دیں کیونکہ انہی بچیوں نے آگے چل کر احمدیت کے لئے بہترین نسل پیدا کرنی ہیں۔دعائیں کریں، دعا ئیں اور تربیت کریں کہ ہماری ہر نسل پہلی نسل سے آگے بڑھتی چلی جائے۔آپ نے طالبات پر زور دیا کہ بار بار وہ ایسی تربیتی کلاسوں میں شرکت کریں تا کہ ان