خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 886 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 886

خطابات مریم 886 زریں نصائح ہے۔یہ کام صرف عہدیداروں کا نہیں۔ہر ممبر کی ذمہ داری ہے۔آپ نے نہایت دلنشیں انداز میں انفرادی اور اجتماعی اصلاح اور تربیت کے اصولوں کی طرف توجہ دلائی۔صحبت صالحین اور دعا کی اہمیت بھی واضح فرمائی آخر میں مقامی اجتماع میں پوزیشن لینے والی ممبرات کو انعامات تقسیم کئے۔دعا کے بعد اجلاس برخاست ہوا۔28 / اگست کو ایبٹ آباد میں حضرت سیدہ صدر صاحبہ ممدوحہ نے ممبرات سے خطاب فرماتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی طرف توجہ دلائی۔فرمایا:۔آپ کی کامل اطاعت میں خدا کی اطاعت ہے۔دنیا میں فلاح کے دو راستے ہیں۔سچا عبد بننا اور مخلوق خدا سے محبت رکھنا۔ہر قسم کا علم قرآن میں موجود ہے جو خدا نے اس لئے نازل کیا تا انسان اس کا قرب حاصل کر سکے۔قرآن کو عزت دینا کامیابی ہے والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو یہ کامل کتاب پڑھانے کا انتظام کریں تا ان پر واضح ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام زندگی مکمل عبادت تھی۔جو دعائیں آپ نے زندگی کے ہر شعبہ میں کیں وہ یاد کرنا اور پڑھنا راہ نجات ہے۔آپ اپنی تعداد کو کم نہ سمجھیں اپنے عمل سے تعداد کو بڑھائیے۔آج خلیفہ وقت منادی کر رہے ہیں کہ اگلی صدی غلبہ اسلام کی صدی ہوگی جس کے شروع ہونے میں صرف نو سال باقی رہ گئے ہیں۔میری عزیز بہنو! بچیو! کوشش کرو کہ تمہارا حصہ اس صدی میں ہو۔مؤرخہ 29 /اگست 1980 ء کو تربیلا ڈیم میں نماز جمعہ ادا کی۔تقریباً 10 ممبرات تشریف لائیں۔حضرت سیدہ ممدوحہ نے توجہ دلائی کہ آپ جہاں بھی ہوں حضرت مسیح موعود کا نمائندہ ہیں اس لئے باقاعدہ لجنہ کی تنظیم میں شامل ہوں باہم مل بیٹھیں۔خلوص و محبت ، پیار کے جلوے دیکھیں۔ہم نے ایک ہاتھ پر بیعت کی ہے۔قرآن ہماری آخری کتاب ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے احیائے اسلام کے لئے دن رات دعائیں کیں جو قبول ہوئیں۔خدا نے آپ کی کوششوں میں برکت ڈالی۔وہی برکت ہے کہ آج ہم یہاں بھی دینی باتیں کر رہے ہیں۔سوچئے اسلام کے غلبہ میں آپ کا کیا کردار ہے۔ایک ساتھ قدم ملا کر چلئے۔عورت کی گود بچے کا مدرسہ ہے پس پہلے مدرسے میں ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و قرآن سے الفت ، خدا سے پیار سکھائیے۔(مصباح اکتوبر 1980ء)