خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 885 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 885

خطابات مریم 885 زریں نصائح کے بارے میں اظہار خیال کرنا ہے۔وہ ہستی صرف 1400 سال پہلے کیلئے نہیں تھی وہ تا قیامت ہر زمانہ کیلئے ہے۔پس ہمارے لئے راہ نجات یہی ہے کہ آپ کی سنت پر چلیں وہی اوصاف اپنا ئیں۔خطاب کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا:۔آپ نے وہ کامل مذہب پیش کیا جو تمام خوبیوں کا حامل ہے اور جو ایک زندہ مذہب ہے۔اس کی تعلیم زندہ اور کامل ہے۔پس ہمیں بھی اپنے کردار سے اپنی روحانی زندگی کا ثبوت دینا چاہئے۔26 /اگست 1980ء کو صبح حضرت سیدہ صاحبہ مردان تشریف لے گئیں۔آخر میں حضرت سیدہ ممدوحہ نے ممبرات سے خطاب فرمایا۔آپ نے تَبارَكَ الّذى بِيَدِهِ الْمُلْكُ۔۔۔۔۔کی آیات تلاوت فرمائیں اور بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان آیات کو سونے سے قبل تلاوت فرماتے تھے۔ہمیں بھی آپ کی سنت پر عمل کرنا چاہئے۔زندگی ایک نعمت ہے اس کی قدر کرنا فرض ہے۔موت ایک حقیقت ہے۔زندگی موت کا سلسلہ ازل سے جاری ہے تا کہ پر کھا جائے کہ خدا کے بندے نے زندگی کیسے گزاری؟ قرآن مجید جیسی کامل کتاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی۔اس کی حفاظت کا ذمہ خود خدا نے لیا جو پورا کیا۔ہر زمانے کے لئے اس میں رہنمائی اور ہدایت ہے۔حضرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام احکام پر عمل کر کے دکھا دیا۔اس میں آئندہ کے متعلق پیشگوئیاں ہیں۔ہر مسئلہ کا حل موجود ہے صرف تدبر کی ضرورت ہے۔ہر زمانے کی ضرورت کو پورا کیا گیا ہے۔قرآن پر عمل کرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنا ہے۔ہمیں چاہئے کہ بچے عبد بنیں۔27 /اگست 1980ء نوشہرہ میں حضرت سیدہ ممدوحہ صاحبہ نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔انسانی زندگی کے تین دور ہوتے ہیں۔بچپن، جوانی ، بڑھاپا۔اس میں درمیانی زمانہ عمل کا وقت ہے۔اس زمانے میں خدا نے حضرت مسیح موعود کو مبعوث فرمایا ہے جس کی غرض فقط احیاء اسلام ہے اور اس میں عورتوں کی ذمہ داری زیادہ ہے۔ہر انسان کی دو زندگیاں ہوتی ہیں انفرادی اور اجتماعی دونوں میں فرائض ادا کرنے پڑتے ہیں۔ہر قسم کے حقوق کی ادائیگی کرنا ہوتی ہے۔پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے لجنہ کی تنظیم میں تعاون کو مدنظر رکھنا اولین فرض