خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 583 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 583

خطابات مریم 583 خطابات 1991ء کی وہ تقریر جو آپ نے جرمنی میں مستورات سے خطاب کرتے ہوئے فرمائی تھی اپنی لجنہ کو اور خصوصاً عہدیداروں کو ضرور سنائیں۔اس میں حضور نے عہدہ داروں کو ہدایات دی ہیں کہ آپ کو کیسا ہونا چاہئے۔وہ سنیں اور اس کے مطابق بنے کی کوشش کریں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔اگر کوئی میرا دینی بھائی اپنی نفسانیت سے مجھ سے کچھ سخت گوئی کرے تو میری حالت پر حیف ہے۔اگر میں بھی دیدہ و دانستہ اس سے سختی سے پیش آؤں بلکہ مجھے چاہئے کہ میں اس کی باتوں پر صبر کروں اور اپنی نمازوں میں اس کے لئے رو رو کر دعا کروں کیونکہ وہ میرا بھائی ہے اور روحانی طور پر بیمار ہے“۔آپ فرماتے ہیں :۔(روحانی خزائن جلد 6 شہادت القرآن صفحہ 396) کوئی سچا مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کا دل نرم نہ ہو“۔(شہادت القرآن صفحہ 396) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے 1922ء میں جب بلجنہ اماءاللہ کا قیام فرمایا تو اس کے کچھ مقاصد بھی بیان فرمائے جن میں سے ایک یہ بھی تھا۔اس امر کی ضرورت ہے کہ جماعت میں وحدت کی روح قائم رکھنے کے لئے جو بھی خلیفہ وقت ہو اس کی تیار کردہ سکیم کے مطابق اور اس کی ترقی کو مدنظر رکھ کر تمام 66 کارروائیاں ہوں۔“ اور پھر فرمایا:۔اس امر کی ضرورت ہے کہ تم اتحاد جماعت کے بڑھانے کے لئے ایسی ہی کوشاں رہو جیسے کہ ہر مسلمان کا فرض قرآن کریم۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مقرر فرمایا ہے اور اس کے لئے ہر ایک قربانی کو تیار رہو۔(تاریخ لجنہ جلد اوّل صفحہ 67) خلاصہ کلام یہ کہ ہمارا لائحہ عمل وہی ہے جس کی تلقین عورتوں کو حضور وقتا فوقتا کر رہے ہیں کہ