خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 582 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 582

خطابات مریم 582 خطابات چنانچہ دنیا نے دیکھ لیا کہ کیا ہوا؟ کیا اس کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو کہا تھا یا اس کے مطابق جو مخالفین ہمارے متعلق کہتے تھے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مشکلات کی آندھیاں بھی چلیں۔مصائب کے زلزلے آئے۔لوگوں کو شہید اور قید کیا گیا۔بے گھر کئے گئے۔لیکن ہر تکلیف کے بعد ان کے منہ سے یہی نکلا کہ خدا اور خدا کے رسول نے سچ کہا تھا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا تعالیٰ کے مسیح نے پہلے ہی کہہ دیا تھا۔یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دے گا۔تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا خدا فرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا پس مبارک وہ جو خدا کی بات پر ایمان رکھے اور درمیان میں آنے والے ابتلاؤں سے نہ ڈرے کیونکہ ابتلاؤں کا آنا بھی ضروری ہے تا خدا تمہاری آزمائش کرے کہ کون اپنے دعوئی بیعت میں صادق اور کون کا ذب ہے۔مگر وہ سب لوگ جو اخیر تک صبر کریں گے اور ان پر مصائب کے زلزلے آئیں گے اور حوادث کی آندھیاں چلیں گی اور قو میں ہنسی اور ٹھٹھا کریں گی اور دنیا ان سے سخت کراہت کے ساتھ پیش آئے گی وہ آخر فتح یاب ہوں گے اور برکتوں کے دروازے ان پر کھولے جائیں گئے“۔(روحانی خزائن جلد 20 الوصیت صفحہ 309) پس آئیے جائزہ لیں کون اپنے عہد بیعت میں سچا ہے اور کون جھوٹا۔جماعت کے کام میں مدد کرنے کے لئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے تنظیموں کا قیام فرمایا جن میں سے سب سے پرانی تنظیم لجنہ اماءاللہ کی ہے۔کیونکہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی اس یقین پر قائم تھے کہ جب تک گاڑی کے دونوں پہیئے یعنی مرد اور عورت کی قربانیوں کا معیار یکساں نہیں ہوتا ہم ترقی نہیں کر سکتے۔چنانچہ آپ کی اور بعد میں آنے والے خلفاء کی ہدایات کی روشنی میں کام کرتے ہوئے لجنہ الحمد للہ اس مقام تک پہنچی ہے۔اس موقع پر میں یہ کہنا بھی ضروری سمجھتی ہوں کہ تمام لجنات میں آپ حضور کی 31 اگست