خطابات مریم (جلد دوم) — Page 576
خطابات مریم 576 خطابات اختتامی خطاب صدرات شہر و اضلاع پاکستان 1991ء آپ نے فرمایا کہ ایڈ منسٹریٹر فضل عمر ہسپتال نے بتایا ہے کہ ہسپتال میں نرسز کی سات آسامیاں خالی ہیں خدمت خلق کے جذبے سے معمور میٹرک پاس لڑکیاں درخواست بھجوائیں۔درخواست بھیجوانے کی آخری تاریخ 5 مئی ہے۔انٹرویو 6 مئی کو ہوگا۔آپ نے ایک بار پھر فرمایا کہ رپورٹس فارم کے مطابق بھجوایا کریں صرف یہ نہ لکھا کریں کہ دورہ کیا گیا۔تفصیل سے لکھیں کہ کس شہر ، گاؤں یا تحصیل کا دورہ کیا۔اور کس نے کیا۔حضور انور نے تجنید کی سالانہ رپورٹ دیکھ کر فرمایا کہ تعداد لجنہ میں بہت گنجائش ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ تمام کوائف شہروں سے اکٹھے کیے گئے ہیں دیہات کی طرف زیادہ توجہ دیں۔اور آئندہ چھ ماہ میں اس کام کو تیز تر کریں۔آپ نے فرمایا ضلعی صدر سال میں کم از کم ایک دورہ مرکزی کر کے ہدایات حاصل کیا کریں۔آپ نے ایک نازک امر کی طرف توجہ دلائی کہ بعض والدین اپنی اولادوں کی صحیح رنگ میں تربیت نہیں کر پارہے جس کی وجہ سے احمدی لڑکیوں نے غیر از جماعت لڑکوں سے تعلقات بڑھا رکھے ہیں اور حضور انور سے شادی کی اجازت مانگتی ہیں اور ایسے واقعات کثرت سے ہو رہے ہیں۔اس سلسلہ میں تمام مجالس میں تربیتی سرکلر بھجوائے جاچکے ہیں کہ والدین اپنی بچیوں کی بہتر انداز میں روحانی اور ذہنی تربیت کریں تا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔حضور نے ناظر صاحب اصلاح و ارشاد کے نام خط میں تحریر فرمایا ہے کہ پاکستان میں دعوت الی اللہ کے ماتحت واقفین کی تعداد 58 ہزار ہے جبکہ بیعتیں معدود چند۔اس کام میں ترقی مسلسل رابطہ اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ہر داعی الی اللہ کی کوششوں کو ثمر آور بنانے کے لیے پر خلوص کوشش کی جائے۔مجالس اور ضلعوں کے درمیان مقابلہ کروایا جائے اور ایک سال کے اندراندر بہترین نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔(سالانہ رپورٹ لجنہ اماءاللہ پاکستان 1991ء)