خطابات مریم (جلد دوم) — Page 30
خطابات مریم 30 30 تحریرات میں آج اس امانت اور ذمہ داری کو ادا کرتا ہوں اور آج ان تمام افراد کو جو رجل فارس کی اولاد میں سے ہیں۔۔۔اس فارسی النسل موعود کی اولا د دنیا کے لالچوں حرصوں اور ترقیات کو چھوڑ کر صرف ایک کام کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دے گی اور وہ کام یہ ہے کہ دنیا میں دین کا جھنڈا بلند کیا جائے ایمان کو ثریا سے واپس لایا جائے اور مخلوق کو آستانہ خدا پر گرایا جائے یہ امید ہے۔۔۔اب میں ان پر چھوڑتا ہوں کہ وہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں۔خواہ میری اولا د ہو یا میرے بھائیوں کی وہ اپنے دلوں میں غور کر کے اپنی فطرتوں سے دریافت کریں کہ اس آواز کے بعد ان پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔(روز نامہ الفضل 26 راگست 1934ء) حضرت مصلح موعود نے اس موقعہ پر مغربی تقلید سے منع کرتے ہوئے فرمایا:۔ہم اور مغربیت ایک جگہ نہیں جمع ہو سکتے یا ہم زندہ رہیں گے یا مغربیت زندہ رہے گی“۔حضور نے فرمایا:۔حضرت۔۔۔کی اولاد میں سے اگر کوئی شخص مغربیت کی نقل کا ذرا بھی مادہ اپنے اندر رکھتا ہے تو وہ کا حقیقی بیٹا نہیں کہلا سکتا کیونکہ اس نے اس آواز کو نہیں سنا جسے پھیلانے کیلئے مبعوث ہوئے۔۔۔پس یہی نہیں کہ تم سے امید کی جاتی ہے کہ تم مغربیت سے علیحدہ رہو گے تم سے امید کی جاتی ہے کہ تم دین کا جھنڈا ہمیشہ بلند رکھو گے تم سے امید کی جاتی ہے کہ تم نوع انسان کے خیر خواہ رہو گئے۔خدا تعالیٰ شاہد ہے اور منصورہ بیگم کی ساری زندگی بتاتی ہے کہ انہوں نے اپنی ساری زندگی ان ذمہ داریوں کی ادائیگی میں گزاری جن کی طرف ان کے نکاح کے موقعہ پر حضرت مصلح موعود نے توجہ دلائی تھی۔تقریب شادی آپ کی بارات 4 /اگست کو مالیر کوٹلہ گئی حضرت مصلح موعود 5 /اگست کو بحیثیت ماموں شرکت کیلئے بذریعہ کا ر تشریف لے گئے۔6 اگست بروز دوشنبه برات مالیر کوٹلہ سے واپس قادیان پہنچی۔حضرت مصلح موعود پہلے ہی واپس پہنچ چکے تھے