خطابات مریم (جلد دوم) — Page 29
خطابات مریم 29 29 تحریرات حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے شیعیت سے نکل کر احمدیت کو قبول کیا اور تمام رسوم کو چھوڑ کر ایک باوفا اور باصفا انسان کا نمونہ پیش کیا۔ایمان اور عمل میں جلد جلد ترقی کرتے ہوئے جماعت میں بہت بڑا مقام حاصل کیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام میں ان کو حجتہ اللہ قرار دیا۔کشفی طور پر حضرت اقدس کو آپ کی گردن اونچی دکھائی گئی جو عزت اور اقبال مندی کی دلیل تھی۔مکتوب بنام حضرت نواب محمد علی خان صاحب 1891ء) ظاہر ہے کہ ایسے نیک اور مقدس ماں باپ کی گود میں پروان چڑھنے والی بچی خود کتنی نیک اور سعادت مند ہوگی۔23 سال اپنے میکے میں ناز و نعمت کی زندگی گزاری۔16 اگست 1934 ء کو حضرت مصلح موعود کی پہلی بہو کی حیثیت سے دارا مسیح میں قدم رکھا۔1973ء میں میں نے چاہا کہ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی ایک خواب حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے حالات قلمبند کروں اس سلسلہ میں روزانہ ایک گھنٹہ کیلئے ان کے پاس جانا شروع کیا بعض ناگزیر مجبوریوں کی وجہ سے وہ کتاب جو میں تقریباً مرتب کر چکی ہوں شائع نہیں ہوسکی دعا کریں اس سال شائع کر سکوں۔میں نے حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ سے سوال کیا کہ بہت سے اہم واقعات خواب کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر ظاہر کئے منصورہ بیگم کی شادی حضرت مرزا ناصر احمد صاحب سے ہوئی جنہوں نے اپنے وقت پر قدرت ثانیہ کے تیسرے مظہر بننا تھا کیا اس شادی کے سلسلہ میں بھی آپ نے کوئی خواب دیکھا تھا فرمایا کہ ” جب منصورہ جمل میں تھی خواب میں حضرت (بانی سلسلہ احمدیہ ) نے فرمایا کہ تمہاری بیٹی ہوگی اس کی شادی محمود کے بیٹے سے کرنا“۔خطبہ نکاح حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ کے نکاح کا اعلان 2 / جولائی 1934ء بروز دوشنبہ سیدہ منصورہ بیگم سے حضرت مصلح موعود نے کیا۔آپ کے ساتھ ہی صاحبزادی ناصرہ بیگم کا نکاح بھی صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کے ساتھ ہوا تھا۔اس مبارک تقریب میں آپ نے ایک نہایت عارفانہ لطیف خطبہ دیا جس میں حضرت اقدس کی اولا د کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا۔