خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 31 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 31

خطابات مریم 31 تحریرات آپ نے سٹیشن پر استقبال کیا اور بارات کے ساتھ احمد یہ چوک پہنچے جہاں بیت مبارک میں تمام مجمع سمیت لمبی دعا فرمائی۔8 را گست کو حضرت مصلح موعود نے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی دعوت ولیمہ نہایت وسیع پیمانہ پر کی۔شادی کے تھوڑے عرصہ کے بعد ہی حضرت صاحبزادہ ناصر احمد صاحب تکمیل تعلیم کی غرض سے 6 ستمبر 1934ء کو عازم انگلستان ہوئے۔حضرت اماں جان نے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو بیٹا بنایا ہوا تھا ان الہی بشارتوں کے مطابق کہ مبارک کا بدل دیا جائے گا حضرت اماں جان اس کا اظہار بھی فرمایا کرتی تھیں۔آپ نے صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی رہائش کے لئے محلہ دارالا نوار قادیان میں ایک کو ٹھی تعمیر کروائی تھی جو النصرت“ کے نام سے موسوم تھی شادی کے بعد آپ کی رہائش وہاں ہی رہی۔شادی کے بعد کی زندگی شادی کے بعد جلد ہی حضرت مرزا ناصر احمد صاحب انگلستان روانہ ہو گئے۔یقیناً ایک نئی دلہن نے آپ کی جدائی بہت زیادہ محسوس کی ہوگی مگر کسی قسم کا اظہار نہ کیا اور ایک واقف زندگی کی بیوی ہونے کی حیثیت سے بہترین نمونہ دکھایا۔1936ء میں چند ماہ کے لئے حضرت مرزا ناصر احمد صاحب واپس قادیان تشریف لائے اور پھر تکمیل تعلیم کے لئے چلے گئے اور 1938 ء میں واپسی ہوئی۔یہ سارا زمانہ آپ نے بڑے تحمل اور صبر کے ساتھ گزارا۔صحت پر اثر ضرور پڑا لیکن آپ کی طرف سے اظہار نہیں ہوا اور اپنے عظیم شوہر کے ساتھ قربانی میں شریک رہیں۔حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کی واپسی کے بعد آپ ان کی ہر ذمہ داری میں برابر کی شریک رہیں۔گھر کی ذمہ داری، خود ان کا خیال ، بچوں کی تربیت ، مہمان نوازی۔یہ سب ذمہ داریاں احسن طریق سے ادا کیں۔اس کے ساتھ ساتھ لجنہ اماءاللہ کی طرف سے جلسہ سالانہ پر مقرر شدہ ڈیوٹی باقاعدگی سے دیا کرتی تھیں۔اپنے ماں باپ کی بہت پیاری بیٹی تھیں۔بہن بھائیوں کی بہت عزیز بہن تھی۔حضرت اماں جان کی طرف سے تو دو ہری محبت ملی بحیثیت نواسی کے اور پھر حضرت مرزا ناصر احمد کی بیوی ہونے کی