خطابات مریم (جلد دوم) — Page 522
خطابات مریم 522 خطابات کی جائیں اس سلسلہ میں آپ مشورہ دیں تا معتین فیصلہ کر کے آپ کو پروگرام بنا کر بھجوایا جائے یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ بطور نمونہ آخر نومبر یا شروع دسمبر 88ء میں صرف ربوہ کی کھیلیں کروالیں۔1986 ء میں لجنہ اماءاللہ نے دستکاری کا کام اس لیے شروع کیا تھا کہ غریب عورتوں کو جن کا کوئی روز گار نہیں کام مہیا کیا جائے۔اس کے لیے 20000 روپے دستکاری مرکز کو دیے گئے تھے۔جس سے انھوں نے ریڈی میڈ جوڑے بنا کر فروخت کئے۔اس میں انھیں اس وقت تک کل /6834 روپے کا منافع ہوا ہے۔اس وقت تک 55 لڑکیاں اور خواتین نے کام کیا ہے۔کچھ جب کام سیکھ جاتی ہیں۔تو چھوڑ دیتی ہیں۔ایک وقت میں عموماً بارہ تیرہ لڑکیاں کام کر رہی ہوتی ہیں۔اور تین چار گھر پر لے جاتی ہیں۔اس طرح اوسطاً سولہ لڑکیاں روزانہ کام کر رہی ہوتی ہیں۔چونکہ کام سکھانے والیاں کم ہیں اس لیے فی الحال اس سے زیادہ نہیں دیا جا سکتا۔ورنہ کام لینے کی خاصی بڑی تعداد خواہش مند ہے۔دستدکاری نمائش مرکز میں تو بڑے پیمانے پر نہیں لگائی جاسکی چونکہ 1983 ء کے بعد جلسہ سالانہ منعقد نہیں ہوا۔صرف 1985 میں اجتماع ہوا تھا۔لجنہ ربوہ سال میں ایک یا دو بار نمائش لگاتی ہے۔اس اجتماع پر بھی لگائی۔ساتھ ہی مرکز کا تیار کردہ سامان بھی رکھا گیا اور انڈسٹریل سکول کا بھی۔لجنات نے اپنے شہر اور ضلع میں نمائش لگائی اور مرکز کو منافع دیا۔اس سلسلہ میں پھر آپ سے یہ کہوں گی کہ اصل کام رقم دینا نہیں بلکہ اصل کام یہ ہے کہ عورتوں سے کام کروائیں۔آپ کی رپورٹ میں یہ بھی ہونا چاہیے کہ دستکاری کا کام کرنے والی کتنی عورتوں نے محنت کی۔اجرت لے کر یا بلا اُجرت۔آپ ان اصولوں پر کام کریں جن اغراض کے ماتحت حضرت مصلح موعود نے نمائش کا کام لجنہ کے سپرد کیا تھا۔1934ء کے جلسہ سالانہ کی تقریب میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے عورتوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا:۔"1936 ء فروری سے نمائش ہوا کرے اور اس میں سب جگہ کی عورتیں چیزیں بھیجا کریں۔وہاں یہ چیزیں بک سکتی ہیں۔اور یہ لاہور میں نمائش ہو۔اس میں ہر جگہ کی عورتیں شامل ہوں۔حیدر آباد دکن، بنگال، یوپی، سرحد، پنجاب کی عورتیں بھی آئیں