خطابات مریم (جلد دوم) — Page 521
خطابات مریم 521 خطابات ہیں۔وہ آپ کو معلوم ہی ہیں۔نہ کوئی اعلان شائع کیا جاسکتا ہے۔نہ ڈاک میں پوری طرف ہدایات دی جاسکتی ہیں۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس شعبہ کی اہمیت کو نہ سمجھا جائے۔یہ تو آپ کی اولین توجہ چاہتا ہے۔جو نعمت اور سچائی اللہ تعالیٰ نے آپ کو دی ہے اس سے دوسروں کو کیوں محروم رکھیں پھر ہمارے متعلق اتنی غلط فہمیاں پھیلا دی گئی ہیں۔کہ اپنے عمل سے اپنے اعلیٰ اخلاق سے آپ نے ان کو دور کرنا ہے۔یہ ایک مسلسل جہاد ہے جو آپ نے اس سلسلہ میں کرنا ہے۔صحت جسمانی کے شعبہ نے پہلے سے نمایاں ترقی کی ہے۔لیکن کھیلوں کا معیار اس سے بہت بلند ہونا چاہیے۔جو بھی حصہ لیں گی اول دوم سوم تو کوئی نہ کوئی آئیگا اصل چیز کھیل کا معیار ہے گذشتہ کھیلوں پر کثرت سے بچیاں اور عورتیں محض تماشہ دیکھنے آ گئیں عملاً انکا کوئی حصہ نہ تھا۔جس کی وجہ سے بڑی گڑ بڑ ہوتی رہی۔صرف کھیلنے والیاں اور ان کی نگران آئیں۔بچہ کوئی ساتھ نہ لائے اور جو اصول مقرر کر کے چھپوا دئے گئے ہیں ان پر سختی سے عمل ہو۔یہ نہیں کہ ادھر کھیلوں کا افتتاح ہو رہا ہے اُدھر لڑ کیاں آرہی ہیں کہ اُن کے نام لکھ لئے جائیں۔جس نے ضرور شامل ہونا ہے وہ اگر اس دن سے پہلے بھی فیس اور فارم جمع کرانیکی مقرر کی جائے تو جمع کراسکتی ہیں۔ممکن ہے یہ قصور کھیلنے والیوں کا نہ ہو بلکہ ان کی صدروں اور سیکرٹریان کا ہو۔بہر حال شعبہ صحت جسمانی کو بھی سختی سے اس کی پابندی کرنی چاہیے۔بدانتظامی بھی اس سے پیدا ہوتی ہے۔اور کھلاڑی اور ان کی منتظمات کی عادتیں بھی بگڑتی ہیں۔کہ اس دفعہ لے لیا تو آئندہ بھی لے لیں گے۔ان بے پر وا ہوں کو چھوڑیں اور جو ہدائتیں دی جائیں ان پر عمل کریں۔جو دن تاریخ اور وقت مقرر کیا جائے اس وقت تک مکمل فارم مع رقم جمع کروا دیا جائے۔اور بچیوں میں یہ جذ بہ پیدا کریں کہ پوری محنت سے مقابلہ کرنا ہے ہارنے کے نتیجہ میں لڑنا جھگڑنا نہیں۔اگر کھیلیں احمدی بچیوں میں آپس میں نفرت کا موجب بن جائیں تو ان کھیلوں کا کیا فائدہ؟ آئندہ سال انشاء اللہ ناصرات کی کھیلیں بھی کروائی جائیں گی۔فروری میں الگ الگ پرائمری۔مڈل۔اور میٹرک کے امتحانات ہوتے ہیں۔اس لیے ہمارا خیال ہے کہ نومبر میں منعقد