خطابات مریم (جلد دوم) — Page 523
خطابات مریم 523 خطابات اور اس وقت جو مخالفت ہو رہی ہے اس کے جواب میں ہماری عورتیں عورتوں کو تبلیغ کریں۔اور اس کا نفرنس نمائش میں قصور، اوتر ، فیروز پور، گوجرانوالہ، ہر ضلع کی عورتیں ہوں۔لیکچراروں کو عمدگی سے لیکچروں کے لیے تیار کرایا جائے۔میں اس کی مدد کیلئے مرد بھی مقرر کر دوں گا“۔آج تک حضرت خلیفہ امسیح الثانی کی تجویز پر لجنہ عمل نہیں کرسکی۔میری خواہش ہے کہ کم از کم جشن صد سالہ کے موقعہ پر اس ٹائپ کی ایک نمائش لاہور میں لگائی جائے جہاں دستکاری کا کام بھی ہو۔کھانے پینے کی دوکانیں بھی ہوں۔لٹریچر بھی ہو اور اگر انتظام ہو سکے تو ویڈیو کے ذیعہ سے جماعت کی ترقی ، حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے دورہ جات کی فلمیں دکھائی جائیں۔آنحضرت ﷺ کی تعریف میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباسات ، اشعار، جگہ جگہ لکھ کر آویزاں کئے جائیں۔غور کرنے سے بہت سی تفصیلات اور تجاویز سامنے آسکتی ہیں۔سب سے آخر میں میں جس شعبہ کا ذکر کرنے لگی ہوں وہ ہے شعبہ ناصرات الاحمد یہ جو سب سے اہم شعبہ ہے۔لجنہ اماء اللہ کی یہ وہ اینٹیں ہیں جو بنیاد میں رکھی جاتی ہیں۔اگر پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھی جائے تو ساری عمارت ٹیڑھی بن جاتی ہے۔جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے شت اول چون نهد معمار کج تا ثریا ے رود دیوار کج عموماً لجنات کی عہدیداران کو اس شعبہ کی طرف اتنی توجہ نہیں جتنی ان کو دینی چاہیے۔وہ نگرانوں پر کام چھوڑ کر بے فکر ہو جاتی ہیں۔یہی وقت ہے جب ان کی دینی تعلیم ہوتی ہے۔یہی وقت ان کی تربیت کا ہے۔مثل مشہور ہے کہ کچھی شاخ تو موڑی جاسکتی ہے۔لیکن سخت ہونے پر موڑا تو ٹوٹ جائیں گی۔اگلی صدی کی تمام ذمہ داریاں نوجوان نسل پر پڑیں گی۔آج کی بچیاں کل کی مائیں ہونگیں۔ان کی نگرانی کریں بچیاں اجلاسوں میں آتی ہیں یا نہیں۔دینی کاموں میں دلچسپی لیتی ہیں یا نہیں۔یہ آپ کا وہ سرمایہ ہے کہ جس کی طرف توجہ دینے سے آپ کو نفع ہی نفع ہے۔آج ان کو ناصرات کے کاموں میں دلچسپی ہوگی تو کل وہی لجنہ کی ذمہ دار کا رکن بنیں گی۔نماز کی عادت ڈالیں۔سچ بولنے کی عادت ڈالیں۔جھوٹ سے نفرت پیدا کر یں۔چوری