خطابات مریم (جلد دوم) — Page 509
خطابات مریم 509 خطابات اجلاس ضلعی نمائندگان نومبر 1988ء تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا :۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے لجنہ اماء اللہ کا کارواں اپنی عمر کی چھیاسٹھ منزلیں پوری کر کے ستاسٹھویں منزل میں داخل ہو رہا ہے۔اور جماعت احمد یہ چند ماہ تک اپنی پہلی صدی پوری کر کے 23 مارچ 1989 ء کونئی صدی میں قدم رکھے گی۔ان سوسالوں میں جماعت احمد یہ پر اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسانات بارش کی طرح بڑھے ہیں۔ابتلاء بھی آئے ہیں مگر جیسا کہ قرآن مجید میں آتا ہے کہ کون خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔اور کون نہیں اللہ تعالیٰ نے زبر دست نشانات بھی دکھائے احمدیت کی صداقت میں جنکی تفصیل میں جانیکی ضرورت نہیں۔آپ سب کو علم ہے 1972ء میں جب لجند نے اپنا پچاس سالہ جشن منایا تھا تو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے لجنہ کو ایک پروگرام عطا فرمایا تھا۔حمد وثنا اور دعا کا۔آپ نے فرمایا تھا:۔ہم احمدی مسلمانوں کا جشن ہماری عید اور ہماری خوشی کا دن حمد و ثنا اور متضرعانہ دعاؤں کا ایک حسین امتزاج ہے۔(المصابیح صفحہ 244) ہمارے دل اپنے رب کی حمد سے اسلئے بھی معمور ہیں اور ہماری زبانوں پر اس کی حمد کے ترانے اس لئے بھی جاری ہیں کہ اُس نے ہم عاجز بندوں اور عاجز بندیوں کو یہ توفیق عطا فرمائی کہ ہم اس ابتلاء اور امتحان کی دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا سے نگاہ موڑ کر اس رب کریم کی طرف متوجہ ہوں۔آپ نے فرمایا تھا کہ حمد کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بحیثیت جماعت بھی اور بحیثیت لجنہ بھی اپنی قربانیوں میں تسلسل قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائی۔آپ نے دعا پر زور دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ ہمارے دل آج خدا تعالیٰ کی حمد سے معمور ہیں اور اس کے ساتھ ہماری متضرعانہ دعا ئیں بھی اس کے حضور پیش ہیں۔آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ :۔وو پس ہماری پہلی دعا یہ ہے کہ اے ہمارے رب تو ہماری کوششوں کو قبول فرما اور