خطابات مریم (جلد دوم) — Page 25
خطابات مریم 25 25 تحریرات ایک بھر پور زندگی گزار کر اپنے مولائے حقیقی سے جاملیں بجا طور پر ان کے متعلق کہا جا سکتا ہے وَمِنْهُم مَن قضى نحبه اللہ تعالیٰ ان کو اعلیٰ مدارج عطا فرمائے اور سادگی ، غیرت دینی ، عبادت گزاری ، ہمدردی خلق کا جو جذ بہ آپ کے دل میں تھا وہ سب احمدی مستورات کے دلوں میں پیدا کرے۔اپنا مضمون ختم کرنے سے قبل آپ کے کردار اور اخلاق کے متعلق بھی چند باتیں درج کرنا ضروری سمجھتی ہوں۔آپ بہت عبادت گزار، شب بیدار اور بہت دعائیں کرنے والی خاتون تھیں۔جوانی میں بیوہ ہو ئیں ، اپنی محنت سے کما کر اپنے اخراجات پورے کئے کبھی کسی سے مدد لینا گوارا نہ تھا۔اولاد کی نیک تربیت کی ایک بیٹا ہونے کے باوجود اسے دین کی خاطر وقف کیا۔خلافت کا بے انتہا احترام تھا کوئی اعتراض برداشت نہ کر سکتی تھیں بڑی سادہ اور پاکیزہ زندگی گزاری۔مردانہ وار ساری مشکلات کا مقابلہ کیا اور حقیقت میں وہ کام کئے جو ایک مرد کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اچھا حافظہ عطا فرمایا تھا جب میں نے تاریخ لجنہ مرتب کرنی شروع کی تو ابتدائی چودہ ناموں کا یقینی طور پر پتہ نہیں چل رہا تھا۔پرانی ممبرات بہت سی وفات پا چکی تھیں میں نے استانی سیکینہ صاحبہ، استانی مریم صاحبہ اور بہت سی ممبرات سے ناموں کی تفصیل پوچھی تلاش کرنے پر رسالہ احمدی خاتون سے جو حضرت عرفانی صاحب شائع فرمایا کرتے تھے وہ نام مل گئے تو سب سے زیادہ صحیح نام وہ تھے جو استانی میمونہ صاحبہ نے اپنے حافظہ کی مدد سے بتائے تھے۔قرآن مجید کثرت سے پڑھتی تھیں۔آخر عمر میں قرآن مجید کا اکثر حصہ حفظ ہو چکا تھا۔قول اور فعل میں کوئی تضاد نہ تھا غرضیکہ مومنانہ شان کے ساتھ اپنی زندگی بسر کر کے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئیں۔لجنہ اماء اللہ کی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا اور ان کی قربانیاں بھی۔اللہ تعالیٰ سب احمدی بہنوں کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی روح پر بے شمار فضلوں کی بارش فرمائے۔آمین اللھم آمین (ماہنامہ مصباح دسمبر 1980ء جنوری 1981ء) ☆۔☆