خطابات مریم (جلد دوم) — Page 454
خطابات مریم 454 خطابات دوره ضلع جہلم 13 مارچ1986ء آپ نے فرمایا کہ جہلم وہ شہر ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدم پڑے اور آپ نے یہاں بہت دعائیں کیں۔کثیر افراد نے بیعت کی پھر آپ کے خلفاء بھی یہاں آتے رہے اور افراد جماعت کو ان کے ارشادات سننے کا موقع ملتا رہا۔اس شہر کی کارکردگی کو ان شہروں کے مقابلہ میں بہت ممتاز ہونا چاہئے تھا جہاں خلفاء کو جانے کا موقع نہیں مل سکا۔لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ شہر کا ر کر دگی کے لحاظ سے بہت پیچھے ہے۔اس شہر میں بہت سے بزرگان پیدا ہوئے جنہوں نے اعلیٰ قربانیاں پیش کیں۔حضرت سیدہ موصوفہ نے فرمایا کہ آج کے ہمارے حالات بہت مخدوش ہیں کئی لوگ کلمہ کی خاطر مصائب و تکالیف برداشت کر رہے ہیں۔بعض نے اپنی جانیں خدا کے حضور پیش کر دی ہیں۔آپ کو بھی ایسی قربانیاں پیش کرنی چاہئیں کیونکہ اس قوم کو دوام ملتا ہے جہاں قربانیوں میں یکسانیت پائی جائے۔مردوں اور عورتوں کو مل کر کام کرنا چاہئے ہم مہدی موعود پر ایمان لائی ہیں اور احمدیت میں داخل ہوئی ہیں۔احمدیت دراصل اسلام کی نشاۃ ثانیہ ہے۔ہمارا عمل ہمارے عقیدے کے مطابق ہونا چاہئے ہماری رہائش اور طرز عمل سے ظاہر ہونا چاہئے کہ ہمارا ہر فعل اسلام کی تعلیم کے مطابق ہے۔اگر ہم قرآن کریم پڑھیں گی تو تب ہی اس پر عمل کر سکتی ہیں۔آپ نے فرمایا کہ مومن ایک دوسرے کے مددگار ہوتے ہیں۔مرد کو عورت اور عورت کو مرد کا ان ذمہ داریوں کے لئے جو ہماری ترقی کے لئے ضروری ہیں ایک دوسرے کا ولی ہونا چاہئے۔متحدہ کوششوں سے ہی دراصل صحیح نتائج نکلتے ہیں۔آجکل آپ دنیاوی کاموں کے لئے وقت نکال سکتی ہیں اور محنت کر سکتی ہیں لیکن مذہب خدا کے نام اور جماعت کی ترقی کے لئے کوئی کام کرنا ہو تو بہت سے بہانے ڈھونڈ لیتی ہیں۔آپ کا عہد اگر دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا ہے تو پھر کسی پس و پیش کی گنجائش نہیں