خطابات مریم (جلد دوم) — Page 455
خطابات مریم 455 خطابات دیا ہو سکتی کسی احمدی عورت کو فرائض سے چھٹی نہیں مل سکتی۔صرف عہد یداران کے ہی فرائض نہیں ہر ایک کا تعاون شامل ہونا چاہئے۔آپ نے فرمایا کہ اتحاد اور تعاون کے ساتھ ساتھ قرآن نے اطاعت پر بھی بہت زور دیا ہے۔ہمیں حضرت آدم علیہ السلام کے واقعہ میں اطاعت کا سبق یا گیا ہے کہ آدم کو سجدہ کرو۔یہاں سجدہ سے مراد مکمل طور پر اطاعت وفرماں برداری ہے۔آپ کو معلوم ہے کہ جنہوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا وہ ابلیس کہلائے۔آدم کا سجدہ آپ کو سبق دیتا ہے کہ آپ عہدیداران کی اطاعت کریں کسی عہدہ دار کا حکم ذاتی حیثیت نہیں رکھتا۔اس کی اطاعت ہر احمدی عورت اور بچی پر فرض ہے۔ہماری منزل اور ہمار نصب العین ایک ہے اس لئے ہمارے درمیان کوئی جھگڑا اور پارٹی بازی نہیں ہونی چاہئے۔ہمیں موتیوں کی لڑی کی طرح اتحاد پیدا کرنا چاہئے۔آپ نے فرمایا کہ ذاتی جھگڑوں کو دین پر قربان کر دیں۔ہمارا مطمح نظر ہی یہ ہے کہ احمدیت کو ترقی حاصل ہو۔یہ جھگڑے جماعت کی ترقی کو چند قدم پیچھے لے جاتے ہیں اور ان جھگڑوں میں عورت کا زیادہ ہاتھ ہے۔اگر مردوں اور بچوں کی وجہ سے جھگڑے پیدا ہوں تو عورت کو چاہئے کہ وہ محبت اور شفقت کے ساتھ آگ پر پانی ڈالنے کی کوشش کرے کیونکہ حقیقی مومن مردوں اور عورتوں کی پہچان ہی یہی ہے کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی طرف توجہ رکھتے ہیں۔حضرت سیدہ صدر صاحبہ نے فرمایا کہ آپ اپنی تربیت اور اصلاح کی طرف توجہ دیں۔ہماری بہت سی مستورات ابھی تک رسوم و بدعات کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہیں جن سے نجات دلانے کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے تھے۔حضرت رسول کریم علی کے ذریعہ سے دنیا میں ایک نہایت حسین معاشرہ قائم ہوا تھا کہ مشرکین بھی اقرار پر مجبور تھے کہ ایسا انقلاب کسی اور سے ممکن نہیں تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آنے کی دو بڑی اغراض تھیں۔ایک یہ کہ مکمل تو حید قائم ہوا اور دوسرے یہ کہ آپس میں باہمی ہمدردی کے ذریعہ معاشرہ کی اصلاح کی جائے۔جماعت احمد یہ دوسرے شرکوں سے تو پاک ہے لیکن کچھ نہایت مخفی شرک ابھی پائے جاتے ہیں۔آپ ہر اس رسم کو چھوڑ دیں جس سے تو حید پر زد پڑے۔آجکل مذہب