خطابات مریم (جلد دوم) — Page 453
خطابات مریم 453 خطابات کا احساس ہونا چاہئے۔آپ نے اس ابتلاء کے دور میں اگر لا پرواہی اور بے تو جنگی برتی تو آپ کے بچے بھی ست ہو جائیں گے کیونکہ بچے اپنے والدین کا نمونہ اپناتے ہیں۔جماعت اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک کہ آپ میں سے ہر ایک اپنی ذمہ داری کو ادا کر نے والا نہ ہو۔اطاعت کا جذبہ اپنے اندر ، اپنے بچوں کے اندر اور اپنے مردوں کے اندر پیدا کریں۔خدا کو ہر بات پر مقدم رکھیں۔اپنے بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کی طرف توجہ دیں۔آپ کی کوشش ہونی چاہئے کہ آپ کا ہر بچہ سکول داخل ہونے سے قبل قرآن کریم ختم کرے۔قرآن ہماری روحانی غذا ہے۔قرآن کریم کو پڑھنے سمجھنے اور عمل کئے بغیر ہم سیدھی راہ پر چل نہیں سکتیں جو شخص قرآن کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتا وہ خود اپنے اوپر جنت کا دروازہ بند کر لیتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ جہالت اور دینی علم کی کمی کی وجہ سے ہمیں بعض شکایات ملتی ہیں جو بہت تکلیف دہ امر ہے۔بعض احمدی خواتین ابھی تک رسم و رواج میں گھری ہوئی ہیں حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام انہی رسوم و بدعات کو ختم کرنے کے لئے تشریف لائے تھے۔آپ کی بعثت کا مقصد ہی یہ تھا کہ چودہ سو سال میں پیدا ہونے والے مسائل اور شرک کا خاتمہ ہو اور حضرت محمد ملی کے باغ میں ایک بار پھر سے بہار آ جائے۔آپ نے فرمایا کہ معاشرہ افراد سے بنتا ہے اس کی اصلاح میں زیادہ ہاتھ عورت کا ہو سکتا ہے کیونکہ جو مائیں اپنے بچوں کے دلوں میں دین کی محبت اور نیک با تیں ڈالتی ہیں انہی کے بچے خادم دین بنتے ہیں۔چراغ سے چراغ جلتا ہے اور وہی قوم ترقی کر سکتی ہے جس کی آئندہ نسل جگہ لینے کے لئے پوری طرح تیار ہو۔پس اپنی سستیوں کو چھوڑ دیں اپنے بچوں، خاوندوں اور بھائیوں کی طرف توجہ رکھیں۔انہیں نمازوں کا پابند بنا ئیں ان میں یہ احساس پیدا کریں کہ ہم نے ہر دم اپنے عہد بیعت کو نبھانا ہے۔جب ہر عورت یہ عہد کرلے تو انشاء اللہ ترقی کے دن بہت قریب آئیں گے۔آخر میں آپ نے حضور ایدہ اللہ کی جلد واپسی اور جماعت کی ترقی کے لئے دعائیں کرنے پر بہت زور دیا۔(سالانہ رپورٹ لجنہ اماءاللہ مرکزیہ 87-1986ء)