خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 435 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 435

خطابات مریم 435 خطابات 1984ء اور 1985ء میں مرکزی نمائندگان اور سب ضلعوں کی نمائندگان شمولیت کرتی اور اپنی لجنات کی طرف سے نمائندگی کرتی رہیں۔عورتوں اور بچوں کی تربیت کے خاص مواقع ہوئے ہیں اجتماع ، جلسہ سالانہ ، فضل عمر تربیتی کلاس ، میٹرک کے بعد کی تعلیمی کلاس اور کھیلوں کے مقابلوں کا ٹورنا منٹ جن میں جسمانی صحت کے علاوہ اخلاقی لحاظ سے بھی مقابلہ ہوتا ہے۔84۔1985ء میں مستورات اور بچیاں اس سے محروم رہیں اس لئے تمام لجنات کا فرض ہے کہ وہ اپنی بہنوں اور بچیوں کی تربیت کی طرف بہت زیادہ توجہ دیں اگر مرکز میں کلاسیں نہ لگ سکیں تو ہر لجنہ لگائے بڑے شہروں میں ایک جگہ جمع نہ ہو سکیں تو ہر قیادت یا محلہ میں لگائیں اور ان کی دینی تعلیم اور اخلاقی تربیت کی طرف بہت توجہ دیں۔خدا کے مامور کشتی کا کام دیتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔ترجمہ : کیا تو نے نہیں دیکھا کہ کشتیاں اللہ کی نعمت کے ساتھ سمندر میں چلتی ہیں تا کہ وہ اپنے نشانات دکھائے اس میں ہر بڑے صابر اور ہر بڑے شکر گزار کے لئے بہت نشان ہیں۔( سورة لقمان : 32) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے بھی فرمایا ہے۔واللہ کہ ہم چو کشتی نو حم کردگار بے دولت آنکه دور بماند ز لنگرم ترجمہ: بخدا میں اپنے پروردگار کی طرف سے نوح کی کشتی کی طرح ہوں بدقسمت ہے وہ جو میرے لنگر سے دور ہوتا ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف جانے کیلئے مامورین کا مقام بمنزلہ کشتی کے ہوتا ہے جس میں سوار ہو کر وہ خدا تک پہنچتے ہیں اسی لئے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں :۔انبیاء کے دنیا میں آنے کی سب سے بڑی غرض اور ان کی تعلیم اور تبلیغ کا عظیم الشان مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کو شناخت کریں اور اس زندگی سے جو انہیں جہنم اور ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے اور جس کو گناہ آلود زندگی کہتے ہیں نجات پائیں یعنی میں بتانا چاہتا ہوں کہ خدا کیا ہے؟ بلکہ دکھانا چاہتا ہوں اور گناہ سے۔۔۔۔۔۔