خطابات مریم (جلد دوم) — Page 434
خطابات مریم 434 خطابات حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے لندن جانے کی وجہ سے وہاں کام بے حد بڑھ گیا ہے یہاں سے تو کام کرنے والے ساتھ نہیں گئے جیسا کہ حضور نے خود جماعت انگلستان کے اس سال کے جلسہ سالانہ کے موقع پر فرمایا ہے کہ وہاں کے لوگوں نے اپنا وقت قربان کر کے سارا بوجھ اُٹھایا۔ان کام کرنے والوں میں جہاں مرد تھے وہاں عورتیں بھی تھیں اور اب انگلستان کی عورتوں کی ایک خاصی تعدا د روزانہ خطوط وغیرہ لکھنے اور متفرق کاموں کے سرانجام دہی میں مصروف ہے۔دیر سے یہ معاملہ لجنہ اماءاللہ کے زیر غور تھا کہ ربوہ میں دستکاری کے کاموں کو فروغ دینا چاہئے تا وہ عورتیں جو غربت سے پریشان ہو کر دستِ سوال دراز کرتی ہیں اپنی خود کوئی آمد پیدا کر سکیں۔سلائی سکول تو جاری ہے مگر گنتی کی طالبات آتی تھیں سکول کا خرچ بہت تھا۔آمد نہ ہونے کے برابر اور وہ لڑکیاں آڈر کا کام بھی نہیں کرتی تھیں۔صرف ڈپلومہ لے کر چلی جاتی تھیں۔اس سال لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے فیصلہ کیا کہ ڈپلومہ بند کر کے اس میں کام اس رنگ میں سکھایا جائے کہ سیکھنے والی مستورات کام سیکھ کر اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکیں۔چنانچہ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد اس طریق پر ابتداء کر دی گئی ہے اور فی الحال سکولوں کے یونیفارم کے سوئیٹرز تیار کئے جارہے ہیں آپ سب نے تعاون کیا تو امید ہے کہ شعبہ دستکاری اپنی ترقی کی راہوں پر گامزن ہو جائے گا۔اجتماع کے موقع پر ایک چھوٹی سی نمائش بھی لگائی گئی ہے۔1984ء میں تو جلسہ سالانہ نہیں ہو سکا لیکن 1983 ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر جلسہ گاہ کے انتظامات میں لجنہ اماءاللہ کراچی نے نمایاں خدمات سرانجام دی تھیں اور ڈاکٹر ز بیدہ صاحبہ کی نگرانی میں کارکنات نے بہت اچھا کام کیا جس کا فرق گذشتہ سالوں سے نمایاں نظر آتا ہے اسی طرح حلقہ خاص کے کام کی ذمہ دار لجنہ لا ہور نے بھی اچھی طرح ڈیوٹی ادا کی۔1983 ء کے اجتماع کے بعد حضور کی ہدایت کے مطابق مجلس انصار اللہ مجلس خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماءاللہ کے نمائندگان کی کئی میٹنگیں اس غرض سے ہوئیں کہ سالانہ کام کا جائزہ لینے کا تینوں تنظیموں کا ایک معیار مقرر ہو اور جو لجنات اس معیار پر پوری اتریں صرف ان لجنات کو مقابلہ میں شامل کیا جائے چنانچہ گزشتہ سال سے اس پر عمل ہو رہا ہے۔1983ء سے حضور نے عورتوں کو مجلس مشاورت میں براہ راست نمائندگی عطا فرمائی۔