خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 415 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 415

خطابات مریم 415 خطابات کیسٹس کا مفید استعمال اسی طرح ریڈیو ٹرانسٹر، ٹیپ ریکارڈر سب ہی بڑے مفید ہیں اور اب تو حضرت خلیفہ امسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ نے ویڈیو اور کیسٹس سے بہت مفید کام شروع کروائے ہیں جو لوگ پہلے ہر وقت ٹیپ ریکارڈر پر ، میری گانے سننے کے عادی تھے وہ ان پر حضور کے خطبے اور سوال و جواب کی محفلوں کے ٹیسٹس سن کر جہاں اپنا علم بڑھاتے ہیں وہاں دوسروں کو سنا کر داعی الی اللہ ہونے کا فریضہ بھی ادا کر تے ہیں۔انگلستان میں خصوصاً میں نے دیکھا کہ جہاں بھی گئی ہر گھر میں بھی اور جس کار میں جاتی تھی اس میں کئی کئی لیسٹس حضور کے خطبات کی رکھی ہوتی تھیں اور دو تین گھنٹے کے سفر میں ہم وہ سن لیتے تھے۔حضور کے وہ خطبے جو حضور مرکز میں دیتے ہیں چند دن بعد وہاں پہنچ جاتے تھے اور حضور ہی کی دلنشین آواز میں سن کر روح وجد میں آ جاتی تھی۔ایک خاتون نے مجھے بتایا کہ ان کے بھانجے کو گانا سننے کی بہت عادت تھی جب سے ہم نے اپنے گھر میں حضور کے سوال و جواب اور خطبات کی کیسٹس رکھی ہیں وہ گانوں کی بجائے وہی سنتا ہے۔پس ان سے بہنوں کو بہت فائدہ اُٹھانا چاہئے۔سینما کی لعنت موجودہ زمانہ میں سینما بھی ایک بڑی لعنت ہے۔حضرت مصلح موعود نے جب تحریک جدید جاری فرمائی تو جماعت کی مالی حالت بہت کمزور تھی کئی جگہ پر مشن کھل رہے تھے ان کے اخراجات جماعت نے برداشت کرنے تھے حضور نے جماعت پر پابندی لگائی کہ اپنی خواہشات پر قدغن لگا ؤ سینما نہ دیکھو، ایک طرف پیسے بچا کر تم چندوں میں دو گے جن سے مساجد تعمیر ہوں گی ،مشن ہاؤس بنیں گے، سکول، ہسپتال بنیں گے دوسری طرف ان اخلاقی بُرائیوں سے محفوظ رہو گے جن کی محرک سینما کی فضا اور فضول فلمیں ہوتی ہیں۔ساری جماعت نے بلا استثناء لبیک کہا اور ایک لمبے عرصہ تک شاید ہی کوئی احمدی ہو جس نے سینما ہاؤس میں قدم بھی رکھا ہو مگر وقت کے ساتھ بعض دفعہ کمزوریاں بھی آ جاتی ہیں جس کے لئے بار بار نصیحت کرنا اور توجہ دلانا ضروری ہے۔احمدی بچوں کے ماں باپ کو ان کے سامنے سینما کی بُرائیاں رکھنی چاہئیں۔حضرت مصلح موعود کا حکم بتانا چاہئے اور منع فرمانے کی حکمت بیان کرنی چاہئے تا وہ اس بُرائی سے محفوظ رہیں۔سینما جانے کی مستقل عادت فضول