خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 414 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 414

خطابات مریم 414 خطابات عورتوں کو اسلام نے جو ان کے حقوق دیئے ہیں اور جو ان پر ذمہ داریاں عائد کی ہیں اور جن باتوں سے روکا ہے اور حد بندیاں مقرر کی ہیں ان سے پوری طرح روشناس کرایا جائے تا ان کے ذہنوں سے اس حد سے بڑھی ہوئی آزادی کا تصور ختم ہو جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔گھر میں ماں باپ کی صحیح تربیت اور دین کے اصولوں سے بچوں کو واقف نہ کرانے کے باعث جب کوئی لڑکی شادی ہو کر پاکستان سے باہر جاتی ہے یکدم برقع اتار پھینکتی ہے اور بعض تو لباس بھی ایسا پہنتی ہیں جو ایک مسلمان عورت کو زیب نہیں دیتا۔ملازمتیں موجودہ آزادی نے عورتوں میں نوکریاں کرنے کی طرف بہت زیادہ رحجان پیدا کر دیا ہے۔اسلام اس سے روکتا نہیں۔مجبوری کی اور بات ہے مگر بے وجہ لڑکیوں کی ملازمتیں کرنا ان کے گھرانے کے لئے بُرے نتائج پیدا کر سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مرد کو قوام بنایا ہے گھر کا خرچ دینا مرد کے ذمہ ہے۔عورت کے اخراجات کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ نے مرد کو بنایا ہے اپنی بیوی سے نوکری کروانا ایک غیرت مند مسلمان کو زیب نہیں دیتا اور نہ ہی عورت کو چاہئے کہ بغیر ضرورت کے صرف شوقیہ نوکری کرے۔دونوں کی نوکری سے آپس میں جھگڑے بھی ہوتے ہیں بچوں کی تربیت اثر انداز ہوتی ہے۔ریڈیو اور ٹی وی ایک مسلمان خاندان کی زندگی بڑی معمور الاوقات ہوتی ہے۔جس میں سب سے پہلے پانچوں نمازوں کے اوقات ہیں اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو نوافل کی ادائیگی ہے پھر جسے اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو تہجد کی ادائیگی ہے۔مغربی تہذیب یا موجودہ تہذیب کچھ بھی کہہ لیں ، کے زیر اثر آج کل مرد، عورتیں اور بچے رات کو دیر تک ٹی وی کے آگے بیٹھے رہنا پسند کرتے ہیں میں یہ نہیں کہتی کہ ٹی وی کے سارے پروگرام اچھے نہیں ہوتے۔بڑے اچھے علمی پروگرام بھی ہوتے ہیں لیکن جو بچہ دیر تک رات کوئی وی دیکھتا رہے گا وہ صبح کی نماز کے لئے وقت پر نہیں اُٹھ سکے گا اس گھر کے رہنے والے تہجد کے لئے نہیں جاگ سکیں گے۔ٹی وی موجودہ زمانہ کی ایک مفید ایجاد ہے اور اس سے یقیناً بہت مفید کام لئے جا سکتے ہیں۔