خطابات مریم (جلد دوم) — Page 397
خطابات مریم 397 خطابات اختتامی خطاب سالانہ اجتماع ناصرات الاحمدیہ مرکز یہ 1983ء) خطاب سے قبل آپ نے ہیں مجالس سے منتخب شدہ بہترین بچیوں میں سے پہلی آٹھ کو سند خوشنودی عطا فرمائیں۔آپ نے ناصرات سے فرمایا کہ اجتماع کی غرض آپ کی تربیت ہے تاکہ مستقبل میں آپ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر سکیں اسلام میں صف بندی کا حکم ہے لہذا آج آپ قطاروں ہی میں جلسہ گاہ سے باہر جائیں۔چھوٹی چھوٹی باتیں مثلاً مساجد اور مجالس کے آداب اگر آپ کو نہیں آتے تو دوسروں کو کیا بتائیں گی جب میں آتی ہوں تو بہت سی لڑکیاں چلتے ہوئے راستہ روک لیتی ہیں کام کرتے ہوئے روکنا احمدی بچیوں کی شان نہیں اس کے علاوہ آپ نے فرمایا کہ آپس میں صلح صفائی سے رہا کرو تمہارے دل صاف ہونے چاہئیں۔بدظنی نہ کرو، بُرائی سن کر آگے بیان نہ کرو ا چھی باتیں تلاش کرو تب ہی جماعت ترقی کر سکتی ہے۔سچ بولنا اور صفائی کا خدا نے سب سے پہلے حکم دیا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاظت سے نفرت فرمائی ہے۔اسلام کی اعلی تعلیم اور اعلیٰ اخلاق پر عمل کرنے کی کوشش کریں اپنے آپ میں وقار اور شائستگی پیدا کریں۔آپ کا نام ناصرات الاحمدیہ ہے، احمدیت کی مدد کر نے والیاں۔سیکرٹریان ناصرات ، بچیوں کی تربیت کرنے کی کوشش کریں۔میں دعا کرتی ہوں کہ خدا سب کو مثالی بنا دے تاکہ ساری دنیا کو ہم کہہ سکیں کہ یہ وہ بچیاں ہیں جو ہم نے نمونہ کے لئے پیش کرنی ہیں۔بعد ازاں آپ نے ناصرات کا عہد دہرایا اور الوداعی دعا کروائی۔از سالانہ رپورٹ لجنہ اماءاللہ پا مرکز یہ 1983ء) ☆☆