خطابات مریم (جلد دوم) — Page 392
خطابات مریم 392 خطابات دعائد بیر ہے اور تد بیر دعا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔وو دعا بڑی دولت اور طاقت ہے اور قرآن شریف میں جابجا اس کی ترغیب دی اور ایسے لوگوں کے حالات بھی بتائے ہیں۔جنہوں نے دعا کے ذریعہ اپنی مشکلات سے نجات پائی۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی ایمانی اور عملی طاقت کو بڑھانے کے واسطے دعاؤں میں لگے رہو۔“ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 207) میں پہلے ذکر کر چکی ہوں کہ دو قسم کے جہاد ہم نے کرنے ہیں ایک اپنی تربیت واصلاح کا جہاد۔دوسرا اسلام کی تبلیغ کا جہاد۔ان دونوں کو کامیاب بنانے کے لئے یہ دو گروہ جن کا ذکر کیا گیا بڑے کامیاب رہیں گے۔ان کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اخلاقی تزکیہ کے لئے ایک تیسری بات بھی بیان فرمائی ہے اور وہ ہے صحبت صادقین اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَكُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبة: 119) اے ایمان والو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور تقویٰ جب حاصل ہوسکتا ہے کہ صادقین کے ساتھ رہا کرو۔اس لئے امام کی بیعت کا حکم ہے کہ امام اس کے لئے ایک ڈھال بن جاتا ہے۔اس لئے سب سے بڑھ کر خلافت کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کرو۔ان کی ہدایتوں پر عمل کرو۔تمام وہ تحریکیں جو آپ کی طرف سے کی جائیں ان پر بشاشت سے عمل پیرا ہو جاؤ۔اللہ تعالیٰ آپ کو اور مجھے تو فیق عطا فرمائے کہ ہم میں سے ہر ایک حضرت خلیفہ امسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ کی خواہش کے مطابق داعیہ الی اللہ بنے اور ہماری سب کی کوششیں اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے والی ہوں اور آپ کے ملک میں جلد سے جلد احمدیت پھیلے اور اسلام کے نور سے یہ ساری سرزمین منور ہو۔لوگ اپنے حقیقی رب کی طرف جھکیں بُرائیاں مٹ جائیں۔قرآن کی حکومت قائم ہو۔میں ان بہنوں کو خاص طور پر نصیحت کرنا چاہتی ہوں جو پاکستان سے آکر یہاں آباد ہوئی ہیں جنہوں نے مرکز سلسلہ کے قریب رہ کر تربیت پائی مگر یہاں کی بظاہر چکا چوند تہذیب سے