خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 391 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 391

خطابات مریم 391 خطابات ہے کہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک نمونہ ٹھہرے) کہ جہاں تک ممکن ہے بدصحبتوں اور بد عادتوں سے پر ہیز کریں ( جو اس کی روحانیت پر برا اثر ڈالتے ہیں ) اور اپنے آپ کو نیکی کی طرف لگائیں۔اور اپنے ہر ایک فعل اور حرکت وسکون میں نگاہ رکھیں۔کہ وہ اس کے ذریعہ سے دوسروں کے لئے ایک ہدایت کا نمونہ قائم کرتا ہے یا نہیں؟ اس مقصد کے حاصل کرنے کے واسطے جہاں تک تدبیر کا حق ہے تدبیر کرنی چاہئے اور کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرنا چاہئے۔“ تقویٰ اور نیکی کے حصول کے لئے تدابیر کی جستجو میں لگے رہنا یہ بھی ایک عبادت ہے۔اور جب انسان اس کوشش میں لگا رہتا ہے تو عادت اللہ یہی ہے کہ اس کے لئے کوئی نہ کوئی راہ کھول دی جاتی ہے۔“ 66 ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 201) اسی تقریر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے کہ حقیقی پاکیزگی حاصل کرنے کا دوسرا ذریعہ دعا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود وعدہ فرمایا ہے۔ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : 61) تم مجھ سے دعا کرو میں تمہارے لئے قبول کروں گا۔دعا کی حقیقت اور فلاسفی کو بیان کرنا خود ایک مضمون ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔دعا ہی ایک ایسی چیز ہے جس کے ساتھ مسلمانوں کو فخر کرنا چاہئے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحه 202) ایک عیسائی جو کفارہ اور خون مسیح پر ایمان لا کر سارے گنا ہوں کو معاف شدہ سمجھتا ہے اسے کیا ضرورت پڑتی ہے کہ دعا کرے۔ایک ہندو کیوں دعا کرے گا جسے یقین ہی نہیں کہ تو بہ قبول ہوتی ہے۔۔۔۔دعا کے ساتھ کوشش جاری رکھو۔ہمت نہ ہارو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔