خطابات مریم (جلد دوم) — Page 390
خطابات مریم 390 خطابات كانَ خُلُقُهُ القُرآن - ( مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 91) آپ کے اخلاق قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق تھے جو تعلیم آپ دیتے تھے اس پر آپ کا اپنا عمل تھا۔آپ کی زندگی ہمیں سبق دیتی ہے کہ ہماری زندگیوں میں کوئی تضاد نہیں ہونا چاہئے ہمارے قول اور فعل میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے ورنہ آپ کی بات اثر نہیں کرے گی اور قرآن مجید کا جہاد بھی اسی وقت کا میاب ہوگا۔یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ اس زمانہ کی بُرائیوں سے محفوظ رہنے کیلئے صرف انسان کی کوشش ہی کافی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے رحم اور فضل کی بھی ضرورت جسے حاصل کرنے کا ذریعہ دعا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی سورۃ عنکبوت میں فرماتا ہے۔والَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَاِنَّ اللهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ (العنكبوت: 70) ترجمہ۔اور وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں ہم ان کو ضرور اپنے رستوں کی طرف آنے کی توفیق بخشیں گے اور اللہ یقینا محسنوں کے ساتھ ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کے لئے جو بھی کوشش ہو وہ کرو اس میں ہمت نہ ہارو۔خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ خود اپنی طرف آنے کی تمہیں توفیق دے گا جہاں روک پڑے اس سے اس کا فضل مانگو اس کے حضور میں جھک جاؤ کہ تیرے دین کی اشاعت کی خاطر ہم تکلیف اُٹھاتے ہیں کوشش کرتے ہیں اے ہمارے رب تو ہماری کوششوں کو کامیاب بنا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے مقصد میں کامیابی کے لئے اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کے تین گر بیان فرمائے ہیں آپ فرماتے ہیں۔اول ضروری ہے کہ انسان دیدہ دانستہ اپنے آپ کو گناہ کے گڑھے میں نہ ڈالے ورنہ وہ ضرور ہلاک ہو گا۔جو شخص دیدہ دانستہ بد راہ اختیار کرتا ہے یا کنویں میں گرتا ہے اور زہر کھاتا ہے وہ یقیناً ہلاک ہوگا ایسا شخص نہ دنیا کے نزدیک اور نہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل رحم ٹھہر سکتا ہے۔اس لئے یہ ضروری اور بہت ضروری ہے خصوصاً ہماری جماعت کے لئے (جس کو اللہ تعالیٰ نمونہ کے طور پر انتخاب کرتا ہے۔اور وہ چاہتا