خطابات مریم (جلد دوم) — Page 389
خطابات مریم 389 خطابات کہ جن خاندانوں تک یہ نعمت نہیں پہنچتی ان کو اس کی طرف بلائیں۔انہیں اس سے روشناس کرائیں کہ ایک مکمل تعلیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے آچکی ہے جس پر عمل کرنے میں تمہارے لئے نجات ہے آؤ اس تعلیم پر غور کرو اور اسے قبول کر و حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔جو قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے“ قرآن کریم کو عزت دینے سے یہی مراد ہے کہ یہ عزم کریں کہ ہم قرآن کی تعلیم کو دنیا میں پھیلائیں گے اور ہم خود بھی اس پر عمل کریں گے تا ہمارا اعلیٰ نمونہ دیکھ کر دنیا ہماری طرف متوجہ ہو اور اس بات کو ماننے پر مجبور ہو کہ یہ انسان جو قرآن کی تعلیم پر عمل کر رہے ہیں۔یہ باقی ساری دنیا سے جدا انسان ہیں اور ان کی تعلیم واقعی اس قابل ہے کہ دنیا اس پر عمل کرے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ سب قرآن مجید کا ترجمہ سیکھیں اس پر غور کریں۔ہر مسئلہ کے متعلق آپ کو معلوم ہو۔قرآن مجید کیا تعلیم دیتا ہے پھر اس تعلیم پر عمل کریں۔ان اخلاق کو اپنا ئیں جن کی تعلیم قرآن نے دی ہے۔ان باتوں سے رک جائیں جن کو قرآن مجید نے روکا ہے۔ان قربانیوں کی طرف متوجہ ہوں جو اسلام کی ترقی آپ سے مطالبہ کرتی ہے۔وہ زندگی گزاریں جس زندگی کی ہدایت قرآن دیتا ہے اور جس کا نمونہ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نظر آتا ہے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری دنیا کیلئے ایک کامل نمونہ بنا کر بھیجا ہے اور آپ کی اطاعت سے ہی اللہ تعالیٰ کی محبت ہمیں حاصل ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران : 32) اگر تمہارا یہ دعوی سچا ہے کہ تم اللہ سے پیار کرتے ہو تو اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کو بتا دیں کہ اس دعوی کا ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے دینا ہے آنحضرت علی کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ بھی تم سے پیار کرے گا کہنے کو بڑا آسان طریقہ ہے مگر عمل کے لحاظ سے مشکل۔زندگی کے ہر شعبہ میں دیکھا ہے کوئی کام تو ہم سنت رسول اور اسوہ رسول اللہ علی کے خلاف نہیں کرتے۔قرآن مجید کی تعلیم اور اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں کوئی فرق نہیں اس لئے تو جب کسی نے حضرت عائشہ سے سوال کیا کہ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق بتا ئیں تو آپ نے جواب دیا۔