خطابات مریم (جلد دوم) — Page 370
خطابات مریم 370 خطابات اور آپ پر خود اس تعلیم کے اثرات نمایاں ہوں۔آپ کے لباس پر ، آپ کے اخلاق پر ، آپ کے کردار پر خواہ آپ قرآن کریم کی تعلیم دوسروں کو بتائیں کہ یوں ہونا چاہئے یوں نہیں لیکن آپ کا اپنا عمل نہ ہو تو وہ نہیں مانیں گے قول اور فعل کے تضاد کی وجہ سے۔خدا کرے جو عہد آپ نے اپنے رب سے کیا ہے جو عہد بیعت کرتے وقت اپنے خلیفہ سے کیا اس پر آپ پوری اُتریں اس کے لئے بہت کوشش کی ضرورت ہے اور بہت دعاؤں کی بھی۔انسان کتنی ہی کوشش کرے پھر بھی بعض دفعہ بھٹک جاتا ہے اس لئے بہت دعائیں کیا کریں اپنے لئے ، اپنی بہنوں کیلئے ، اپنے بچوں کیلئے یہ بھی ایک ذریعہ ہے ایک دوسرے کی محبت دل میں پیدا کرنے کا۔ایک دوسرے پر بدظنی کرنا چھوڑ دیں۔صرف محبت اور پیار کا راستہ اختیار کریں آپ عمل کر کے دیکھیں تو کام بہت آسان ہو جائے گا ہم نے تو دشمنوں سے بھی پیار کرنا ہے تو اپنوں سے تو اس سے بڑھ کر سلوک کرنا ہوگا۔رُحَمَاءُ بَيْنَهُمُ کا نمونہ پیش کرنا ہوگا۔اللہ تعالیٰ آپ کو تو فیق عطا فرمائے۔اپنی اولاد اور اپنی اولاد کی تربیت کے ساتھ تبلیغ کی ذمہ داریوں کو زیادہ سے زیادہ ادا کریں۔قرآن مجید میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فل کہا گیا یعنی یہ بات دوسروں کو بتا ئیں تو یہ حکم صرف آپ کے لئے نہیں تھا بلکہ ہر مسلمان کے لئے تھا اور ہر زمانہ کے مسلمان کے لئے تھا اور ہر زمانہ کے مسلمان کیلئے ہے کہ وہ اس تعلیم کو نہ جاننے والے تک پہنچائے۔ہراحمدی کو خودا پنی بنیادی تعلیم سے واقفیت ہونی چاہئے تا کہ وہ ہر اعتراض کا جواب دے سکے اور اسلام کی حسین تعلیم کو اس ملک میں رہنے والی خواتین تک پہنچایا جائے۔ان میں نہ روحانیت ہے نہ تقویٰ ہے نہ اللہ تعالیٰ کا قرب ہے نہ اعلیٰ اخلاق ہیں یہ لوگ صرف مادہ پرست ہیں اور دنیاوی لحاظ سے ترقی کر رہے ہیں۔اس ترقی کی دوڑ میں اعلیٰ اقدار اور اخلاق کو بھولتے جا رہے ہیں اور گندگیوں میں گرفتار ہیں آپ نے ان بچوں کو ان گندگیوں سے دور رکھنا ہے اور ان کو اسلام کی خوبصورت ، دل پر اثر کرنے والی تعلیم سے روشناس کرانا ہے اب تیزی سے کام کرنے کا وقت ہے اور یہ کام صرف ایک صدر یا سیکریٹری یا مجلس عاملہ کی عہدہ داروں نے نہیں کرنا بلکہ ہر احمدی عورت کا فرض ہے کہ وہ اپنے ملنے جلنے والیوں میں تبلیغ کرے اور اپنا اتنا اچھا نمونہ پیش