خطابات مریم (جلد دوم) — Page 348
خطابات مریم 348 خطابات کر لیتا ہے۔چنانچہ سیالکوٹ میں ایک شخص تھا جو کہ تمام لوگوں سے لڑائی رکھتا تھا اور کوئی ایسا آدمی نہ ملتا تھا جس سے اس کی صلح ہو یہاں تک کہ اس کے بھائی اور عزیز واقارب بھی اس سے تنگ آچکے تھے اس سے میں نے بعض دفعہ معمولی سا سلوک کیا اور وہ اس کے بدلہ میں کبھی ہم سے بُرائی سے پیش نہ آ تا بلکہ جب ملتا تو بڑے ادب سے گفتگو کرتا“۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 232 نیا ایڈیشن ) اکثر لوگ آپ سے دوائی لینے بھی آیا کرتے تھے آپ ان کے لئے دوائیاں رکھتے تھے اور بُرا نہ مانتے تھے۔ایک دن فرمایا۔آج میں نے کام میں بہت توجہ کی سر میں درد تھا ریزش بھی ہے اور گلا بھی پکا ہوا ہے جیسے کسی نے چیرا ہوا ہو اور مریض بھی بہت آئے اگر چہ حکیم نورالدین صاحب کو علاج کیلئے مقرر کیا ہوا ہے مگر بعض اپنے اعتقاد کے خیال سے مجھ سے ہی علاج کراتے ہیں“۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 491 نیا ایڈیشن) آپ سائل کو رڈ نہ فرماتے تھے ایک دن ایک سائل نے بعد فراغت نماز جب کہ آپ اندرون خانہ تشریف لے جا رہے تھے سوال کیا مگر ہجوم کے باعث اس کی آواز اچھی طرح نہ سنی جاسکی اندر جا کر جلد واپس تشریف لائے اور خدام کو سوالی کے بُلانے کیلئے ادھر ادھر دوڑ ایا مگر وہ نہ ملا۔شام کو وہ پھر آیا اس کے سوال کرنے پر آپ نے اپنی جیب سے نکال کر کچھ دیا چند یوم کے بعد کسی تقریب پر فرمایا : - اُس دن جو وہ سائل نہ ملا میرے دل پر ایسا بوجھ تھا کہ جس نے مجھے سخت بے قرار کر رکھا تھا اور میں ڈرتا تھا کہ مجھ سے معصیت سرزد ہوئی ہے کہ میں نے سائل کی طرف دھیان نہیں کیا اور یوں جلدی اندر چلا گیا اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ وہ شام کو واپس آ گیا ورنہ خدا جانے میں کس اضطراب میں پڑا رہتا اور میں نے دعا بھی کی تھی کہ اللہ اسے واپس لائے“۔( از خط مولوی عبد الکریم صاحب 6 فروری 1900ء) بنی نوع انسان کی ہمدردی خصوصاً اپنے بھائیوں کی ہمدردی اور جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا :۔