خطابات مریم (جلد دوم) — Page 349
خطابات مریم 349 خطابات ” میری تو یہ حالت ہے کہ اگر کسی کو درد ہوتا ہو اور میں نماز میں مصروف ہوں میرے کان میں اس کی آواز پہنچ جائے تو میں تو یہ چاہتا ہوں کہ نماز توڑ کر بھی اگر ان کو فائدہ پہنچا سکتا ہوں تو فائدہ پہنچاؤں اور جہاں تک ممکن ہے اس سے ہمدردی کروں۔یہ اخلاق کے خلاف ہے کہ کسی بھائی کی مصیبت اور تکلیف میں اس کا ساتھ نہ دیا جائے اگر تم کچھ بھی اس کے لئے نہیں کر سکتے تو کم از کم دعا ہی کرو۔اپنے تو درکنار میں تو یہ کہتا ہوں کہ غیروں اور ہندوؤں کے ساتھ بھی اعلیٰ اخلاق کا نمونہ دکھاؤ اور ان سے ہمدردی کرو۔آپ نے مزید فرمایا :۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 305) ایک مرتبہ میں باہر سیر کو جا رہا تھا تو ایک پٹواری عبد الکریم میرے ساتھ تھا وہ ذرا آگے اور میں پیچھے راستہ میں ایک بڑھیا کوئی ستر پچھتر برس کی ضعیفہ ملی اس نے ایک خط اُسے پڑھنے کو کہا مگر اس نے اسے جھڑ کیاں دے کر ہٹا دیا میرے دل پر چوٹ سی لگی اس نے وہ خط مجھے دیا میں اس کو لے کر ٹھہر گیا اور اس کو پڑھ کر اچھی طرح سمجھا دیا اس پر پٹواری کو بہت شرمندہ ہونا پڑا کیونکہ ٹھہر نا تو پڑا اور ثواب سے بھی محروم رہا۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 305) آپ بہت مہمان نواز تھے اور مہمان نوازی کا اسلامی تعلیم کے مطابق پورا پورا حق ادا فرماتے تھے سید حبیب احمد صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا :۔آج میری طبیعت علیل تھی اور میں باہر آنے کے قابل نہ تھا مگر آپ کی اطلاع ہونے پر میں نے سوچا کہ مہمان کا حق ہوتا ہے جو تکلیف اُٹھا کر آیا ہے اس واسطے میں اس حق کو ادا کرنے کیلئے باہر آ گیا ہوں“۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 163) دوسروں کے آرام کا اتنا خیال تھا کہ ایک دفعہ مولوی عبد الکریم صاحب نئے مکان میں ایک چار پائی پر سو رہے تھے وہاں حضرت مسیح موعود ٹہل رہے تھے تھوڑی دیر بعد جاگے تو دیکھا حضور فرش پر چار پائی کے نیچے لیٹے ہوئے تھے۔مولوی صاحب ادب سے اٹھ کھڑے ہوئے حضور نے