خطابات مریم (جلد دوم) — Page 347
خطابات مریم 347 خطابات جواب میں یہ لکھا کہ یہاں آگ سے حقیقی آگ مراد نہیں دشمنی اور شرارت کی آگ مراد ہے۔جب حضرت مولوی صاحب کے اس جواب کی اطلاع حضرت مسیح موعود کو پہنچی تو آپ نے بڑے جلال کے ساتھ فرمایا کہ مولوی صاحب کو اس تاویل کی ضرورت نہیں تھی خدا کے بنائے ہوئے قانون کا احاطہ کون کر سکتا ہے۔آپ نے بڑی تحدی کے ساتھ فرمایا اگر خدا نے اپنے کسی خاص الخاص تصرف سے اپنے پیارے بندے ابراہیم کے لئے دشمنوں کی لگائی ہوئی آگ کو سچ سچ ٹھنڈا کر دیا ہو تو اس میں ہرگز کوئی تعجب کی بات نہیں۔ہم خدا کی طرف سے اس زمانہ میں موجود ہیں ہمیں کوئی دشمن آگ میں ڈال کر دیکھ لے خدا کے فضل سے ہم پر بھی آگ ٹھنڈی ہو گی۔(سیرت المہدی روایت 147) ایک اور واقعہ سنئے۔مسٹر چند ولال مجسٹریٹ نے ایک دن عدالت میں لوگوں کا زیادہ ہجوم دیکھ کر عدالت کے کمرے سے باہر کھلے میدان میں عدالت کی کارروائی شروع کی اور نہ معلوم کس خیال سے عدالت کی کارروائی کے دوران میں حضرت اقدس سے پوچھا۔کیا آپ کو نشان نمائی کا دعوی ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جواب میں فرمایا ہاں خدا میرے ہاتھ پر نشان ظاہر فرماتا ہے۔مجسٹریٹ کے اس سوال میں طعن کا رنگ تھا حضرت مسیح موعود نے تھوڑے سکوت کے بعد فرمایا۔جو نشان آپ چاہیں میں اسی وقت دکھا سکتا ہوں“۔مجسٹریٹ حضور کا جواب سن کر سناٹے میں آ گیا اور پھر اُسے سوال کی جرات نہیں ہوئی۔(اصحاب احمد جلد 4 ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کا چوتھا عظیم پہلو بنی نوع انسان سے ہمدردی اور ان کی اصلاح کی تڑپ ہے۔اسلام کی تعلیم کے دو ہی بڑے ستون ہیں۔حقوق اللہ اور حقوق العباد۔حقوق العباد کی ادائیگی میں حضرت مسیح موعود اپنے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح کمال تک پہنچے ہوئے تھے احسان کرنے میں آپ بلا تفریق مذہب و ملت دوست دشمن سب سے ہی حسن سلوک کرتے تھے۔آپ فرماتے ہیں :۔احسان ایک نہایت عمدہ چیز ہے اس سے انسان اپنے بڑے بڑے مخالفوں کو زیر