خطابات مریم (جلد دوم) — Page 346
خطابات مریم 346 خطابات ”ہمارے اختیار میں ہو تو ہم فقیروں کی طرح گھر بہ گھر پھر کر خدا تعالیٰ کے سچے دین کی اشاعت کریں اور اس ہلاک کرنے والے شرک اور کفر سے جو دنیا میں پھیلا ہوا ہے لوگوں کو بچالیں“۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 219) حرمات اللہ کی ہتک آپ کو گوارا نہ تھی۔اس بارہ میں فرمایا :۔” میری جائیداد کا تباہ ہونا اور میرے بچوں کا آنکھوں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے ہونا مجھ پر آسان ہے بہ نسبت دین کی ہتک اور استخفاف کے دیکھنے اور اس پر صبر کرنے کے۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 302) عیسائیت کے غلط عقائد اور اس کی عیسائی جو تبلیغ کرتے تھے اور مسلمان ان کے پھندے میں پھنس جاتے تھے کا حضرت مسیح موعود کو بہت دکھ تھا آپ بڑے کرب سے بے قرار ہو کر فرماتے ہیں۔میں ہر دم اس فکر میں ہوں کہ ہمارا اور نصاریٰ کا کسی طرح فیصلہ ہو جائے میرا دل مردہ پرستی کے فتنہ سے خون ہوتا ہے اور میری جان عجیب تنگی میں ہے اس سے بڑھ کر اور کون سا دلی درد کا مقام ہوگا کہ ایک عاجز انسان کو خدا بنایا گیا اور ایک مشتِ خاک کو رب العالمین سمجھا گیا ہے میں کبھی کا اس غم سے فنا ہو جا تا اگر میرا مولیٰ اور میرا قادر وتو انا خدا مجھے تسلی نہ دیتا کہ آخر تو حید کی فتح ہوگی وہ دن نزدیک آتے ہیں کہ سچائی کا آفتاب مغرب کی طرف سے چڑھے گا اور یورپ کو سچے خدا کا پتہ لگے گا۔وقت قریب ہے کہ خدا کی کچی تو حید جس کو بیابانوں کے رہنے والے بھی اپنے اندر محسوس کرتے ہیں ملکوں میں پھیلے گی اس دن نہ کوئی مصنوعی کفارہ باقی رہے گا اور نہ کوئی مصنوعی خدا‘۔(اشتہار 14 جنوری 1897ء) آپ اس یقین پر قائم تھے کہ ہمارا قادر خدا ہے ہمارا مذ ہب زندہ مذہب ہے اور اب بھی اسی قسم کے معجزات ظاہر ہو سکتے ہیں جیسے پہلے انبیاء کے زمانہ میں ظاہر ہوتے رہے۔ایک آریہ نے اسلام پر اعتراض کیا کہ قرآن نے حضرت ابراہیم کے متعلق یہ بات قانونِ قدرت کے خلاف بیان کی ہے اس لئے وہ قابل قبول نہیں کہ جب دشمنوں نے ان کو آگ میں ڈالا تو خدا کے حکم سے آگ ان پر ٹھنڈی ہوگئی اور حضرت مولوی نورالدین صاحب نے اس اعتراض کے