خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 296 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 296

خطابات مریم 296 خطابات یہی غرض حضور کی بعثت کی تھی کہ وہ دین کو پھر سے تازہ کریں۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لگائے ہوئے گلشن میں بہار آئے اور یہ بہار یہ تازگی وابستہ تھی۔قرآن کی تعلیم سے جس کو مسلمانوں نے بھلا دیا تھا اور اس کا استعمال صرف مردوں پر پڑھے جانے یا ان کو بخشے جانے یا قسمیں کھانے تک محدود تھا۔بڑی تکلیف ہوتی ہے جب جہالت اور نا واقعی سے دیہات کی بعض احمدی عورتیں بھی دوسروں کو دیکھ کر ان بدعات کی مرتکب ہوتی ہیں۔اگر ایسی کوئی بات بھی جائز ہوتی تو خود قرآن میں درج ہوتی۔اس کی راہنمائی ہوتی یہ نتیجہ ہے قرآن نہ پڑھنے اور اپنی اولا د کو نہ پڑھانے کا۔ہزاروں ہزار درود و سلام ہوں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر جن کے ذریعہ یہ عظیم نعمت ہمیں ملی۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں۔شه لولاک نعمت پاتے تو اس دنیا سے ہم اندھے ہی جاتے کجا ہم ہم اور کجا مولا کی باتیں کجا دن اور کجا تاریک راتیں رسائی کب تھی ہم کو آسماں تک جو اُڑتے بھی تو ہم اُڑتے کہاں تک خدا ہی تھا کہ جس نے دی محمد ہی تھے جو لائے نعمت خلعت پس اے میرے عزیزو میرے بچو دل و جاں اسے محبوب رکھو ہزاروں رحمتیں اور سلام حضرت اقدس پر جنہوں نے قرآن پر ہونے والے تمام اعتراضات کو دور کر کے اس کا جگمگاتا چہرہ دنیا کو دکھایا اور ہزاروں رحمتیں خلفائے احمدیت پر جن کی ساری زندگیاں قرآن کی درس و تدریس میں گزریں جن کا ہر خطبہ قرآن کی آیات کی