خطابات مریم (جلد دوم) — Page 263
خطابات مریم 263 خطابات ساتواں طریق: دعا کے لئے ایسا وقت انتخاب کیا جائے جب کہ خاموشی ہو۔خیالات پرا گندہ نہ ہوں۔آٹھواں طریق: جب کسی معاملہ کے متعلق انسان دعا کرے تو پہلے اپنے نفس کی کمزوریوں کا مطالعہ کرے اپنی کمزوریوں کو تلاش کرے نفس کو گرا دے۔یہ بندے اور خدا میں تعلق پیدا ہونے کا ایک ذریعہ ہے۔نواں طریق : دعا کرتے وقت اللہ تعالیٰ کے انعامات کو اپنی آنکھوں کے سامنے لائے اس کا شکر ادا کرے۔دسواں طریق: جس طرح خدا تعالیٰ کے انعامات کو نظر کے سامنے لائے اسی طرح اس کے غضب کو بھی سامنے لایا جائے۔گیارہواں طریق : دعا کرنے لگو تو اپنی حالت کو چست بناؤ۔جسم پر مردنی ہو تو روح پر بھی اثر پڑتا ہے۔بارہواں طریق: اصل مقصد کے لئے دعا کرنے سے قبل اور دعائیں ہوں تا دعاؤں کا جوش پیدا ہو۔تیرہواں طریق: ایسی جگہ دعا مانگی جائے جو بابرکت ہو۔جگہ کا بھی قبولیت دعا سے تعلق ہوتا ہے۔چودھواں طریق : ہر ایک دعا کا اللہ تعالیٰ کے اسماء اور صفات سے تعلق ہے۔(حقیقۃ الد عاصفحہ 6 تا 8 ) میں اس تقریر کو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے ان الفاظ پر ختم کرتی ہوں۔مبارک تم جب کہ دعا کرنے میں کبھی ماندہ نہیں ہوتے اور تمہاری روح دعا کیلئے پگھلتی اور تمہاری آنکھ آنسو بہاتی اور تمہارے سینہ میں ایک آگ پیدا کر دیتی ہے اور تمہیں تنہائی کا ذوق اُٹھانے کیلئے اندھیری کوٹھڑیوں اور سنسان جنگلوں میں لے جاتی ہے اور تمہیں بے تاب اور دیوانہ اور از خود رفتہ بنا دیتی ہے کیونکہ آخر تم پر فضل کیا جاوے گا۔وہ خدا جس کی طرف ہم بلاتے ہیں نہایت کریم و رحیم ، حیا والا ، صادق،