خطابات مریم (جلد دوم) — Page 262
خطابات مریم 262 خطابات ہم نے تمہارے لئے بھیجے ہیں ان پر عمل کرو اور اپنی حرکات سکنات کو شریعت کے ماتحت لے آؤ یا درکھو خادم کو انعام اسی وقت ملتا ہے جب آقا خوش ہو۔آقا کو ناراض کر کے کوئی کیسے امید رکھ سکتا ہے۔یعنی بندوں اور اللہ تعالیٰ کے درمیان معاملہ ہے۔ماں بھی اسی بچہ سے زیادہ پیار کرتی ہے جو کہنا مانتے ہیں۔استاد بھی اپنے کہنا ماننے والے طالب علم کی طرف زیادہ توجہ دیتا ہے۔دوسرا طریق: وَلْيُؤْمِنُوبی میں بیان ہوا ہے۔یہاں ایمان لانے سے مراد خدا پر ایمان لا نا نہیں بلکہ اس بات پر ایمان لانا ہے کہ خدا تعالیٰ دعائیں قبول کرتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو۔تیسرا طریق : اللہ تعالیٰ انسانوں سے بہت محبت کرتا ہے۔اگر اللہ کے بندوں پر کوئی احسان کرتا ہے، رحم کرتا ہے تو خدا بھی اس پر رحم کرتا ہے۔اگر اپنا دکھ اور مشکل دور کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہو تو اس کے بندوں کے دکھ دور کرو۔کوشش کرو کہ جو مصیبت میں ہواس کی مصیبت کے دور کرنے کیلئے تم نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہے۔چوتھا طریق: کثرت سے آنحضرت ﷺ پر درود بھیجو۔آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے سب سے پیارے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے کلمہ توحید کے ساتھ آپ کا نام بھی رکھا۔پس خدا کی رحمت کو جوش میں لانے کیلئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر زیادہ سے زیادہ مرتبہ دعا سے پہلے درود بھیجنا ضروری ہے۔پانچواں طریق: دعا سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرو۔ایک انسان دوسرے انسان سے مانگنے جاتا ہے تو اس کی تعریف کرتا ہے۔آپ یوں ہیں، ایسے ہیں۔وہ جو سب سے بڑا حاجت روا اور دینے والا ہے اس کی تو سب سے زیادہ تعریف ہونی چاہئے اور حقیقی تعریف سورہ فاتحہ میں بیان ہوئی ہے اس لئے دعا سے پہلے حمد کرو۔چھٹا طریق: دعا کی قبولیت کے لئے یہ بھی یاد رکھو کہ دعا کرنے سے پہلے اپنے کپڑوں اور بدن کو صاف کرو۔چونکہ روح کی صفائی دل کی صفائی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اس لئے خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کے لئے ضروری ہے کہ جسم پاک ہو تا روح پر بھی اس کا پاک اثر پڑے۔اسلام نے تمام عبادتوں کیلئے صفائی کی شرط ضروری قرار دی ہے۔