خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 261 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 261

خطابات مریم 261 خطابات نزول و رحمت کا وقت ہے دعائیں مانگو، استقامت چاہو اور درودشریف جو حصول استقامت کا زبر دست ذریعہ ہے۔بکثرت پڑھو مگر رسم اور عادت کے طور پر نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کے حسن اور احسان کو مدنظر رکھ کر اور آپ کے مدارج اور مراتب کی ترقی کیلئے اور آپ کی کامیابیوں کیلئے اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قبولیت دعا کا شیر میں پھل تم کو ملے گا۔آپ نے قبولیت دعا کے تین ذریعہ بیان فرمائے۔پہلا۔اطاعت رسول : اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔إن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ (ال عمران:11) اگر اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعوی ہے اور اس کا پیار تم اس سے مانگتے ہو اس کی رضا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی طریق ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت کرو۔آپ کے نقش قدم پر چلو ہر کام میں آپ کا طریق اختیار کرو۔ہر بات میں آپ کی نقل کرو۔اللہ تعالیٰ تم سے پیار کرے گا تمہاری دعائیں سنے گا۔دوسرا طریق: درود شریف کثرت سے پڑھنا ہے جس کا حکم قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ دیتا ہے کہ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب : 57) درود شریف میں صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مدارج اور مراتب کیلئے دعا نہیں ساری امت محمد یہ اورخوداپنے لئے بھی دعا ہے۔تیسرا ذریعہ موہبت الہی ہے یعنی جس پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہو جائے۔یہ وہ درجہ ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کو حاصل ہوتا ہے۔پس دعا کرنے سے پہلے درود شریف ضرور پڑھنا چاہئے اور خود جائزہ لینا چاہئے کہ ہم منہ سے تو دعا کر رہے ہیں درود شریف پڑھ رہے ہیں لیکن کیا ہما را عمل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور عمل کے مطابق ہے یا نہیں ہمارے قول اور فعل میں تضاد تو نہیں اگر ہے تو اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔حضرت امصلح الموعود نے بعض خطبات جمعہ میں قبولیت دعا کے گر بیان فرمائے ہیں ان کا خلاصہ میں اپنے الفاظ میں بیان کرتی ہوں۔ان میں سے کئی کا ذکر ابتداء میں آچکا ہے۔پہلا طریق : فَلْيَسْتَجِيبُوالی میں بیان ہوا ہے۔تم میری ہر ایک بات مان لیا کرو۔جو حکم