خطابات مریم (جلد دوم) — Page 252
خطابات مریم 252 خطابات ہے اور متکبر کا ٹھکانہ جہنم ہے۔حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ دعا کی اہمیت کے بارے میں فرماتے ہیں :۔” ہر ایک شے کی ایک اُتم ہوتی ہے۔میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ کے جو انعامات ہیں اُن کی اُتم کیا ہے خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ اُن کی أمَّادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : 61) ہے۔کوئی انسان بدی سے بچ نہیں سکتا جب تک خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو۔پس ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ فرما کر یہ جتلا دیا کہ عاصم وہی ہے اسی کی طرف رجوع کرو“۔پھر فرماتے ہیں :۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 333 نیا ایڈیشن) توفیق کا ملنا یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے دیکھا گیا ہے اور تجربہ سے دیکھا گیا ہے کہ انسان سعی سے کچھ نہیں کر سکتا نہ وہ صلحاء، سعداء اور شہداء میں داخل ہو سکتا ہے اور نہ اور برکات اور فیوض کو پا سکتا ہے غرض نہ بزور نہ بزاری نہ بزرمے آید۔بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ گوہر مقصود ملتا ہے اور حصول فضل کا اقرب طریق دعا ہے“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 397 نیا ایڈیشن) پھر آپ دعا کی اہمیت کے بارہ میں فرماتے ہیں:۔یقیناً سمجھو کہ دعا بڑی دولت ہے جو شخص دعا کو نہیں چھوڑتا اس کے دین اور دنیا پر آفت نہ آئے گی وہ ایک ایسے قلعہ میں محفوظ ہے جس کے اردگرد مسلح سپاہی ہر وقت حفاظت کرتے ہیں لیکن جو دعاؤں سے لاپر واہ ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو خود بے ہتھیار ہے اور اس پر کمزور بھی ہے اور پھر ایسے جنگل میں ہے جو درندوں اور موذی جانوروں سے بھرا ہوا ہے“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 148 نیا ایڈیشن) دعا کی اہمیت کے متعلق حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کا ایک اور اقتباس پیش کرتی ہوں۔