خطابات مریم (جلد دوم) — Page 251
خطابات مریم 251 خطابات دعا کی اہمیت اور برکات خطاب بر موقع جلسہ سالانہ 1980ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات پیدا کی ہے انسان ہوں یا حیوان یا جمادات سب اس کی ربوبیت کے محتاج ہیں۔انسان اس ساری کائنات میں ایک ذرہ ناچیز ہے لیکن اس میں اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی صلاحیتیں رکھی ہیں جن سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کا طالب ہوتے ہوئے وہ اعلیٰ سے اعلیٰ ترقی کر سکتا ہے۔دعا اللہ تعالیٰ اور بندہ کے درمیان ایک رشتہ ہے ایک ذریعہ ہے تعلق کا۔دعا کے ذریعہ بندہ اپنے رب کو پکارتا ہے اس سے اپنی حاجتیں بیان کرتا ہے اور جس طرح ایک ماں بچہ کے بلانے پر تڑپ اُٹھتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ جو ماں اور باپ سے بڑھ کر پیار کرنے والا ہے بندوں کی پکار سنتا ہے۔خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مَا يَعْبَؤُبِكُمُ رَبِّي لَوْلَا دُعَاءُ كُمُ (الفرقان : 78 ) اگر تم اُسے نہ پکارتے تو وہ تو بے نیاز ہے اسے تمہاری کیا پر واہ۔اگر دعا کا رشتہ اللہ تعالیٰ اور بندہ میں قائم نہ ہوتا تو انسان بہت بے بس ہو جاتا۔اللہ تعالیٰ نے خود بندہ کو اِذنِ دعا عطا فرمایا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ (المؤمن : 61) ترجمہ: اور تمہارا رب کہتا ہے مجھے پکارو میں تمہاری دعا سنوں گا جو لوگ ہماری عبادت ط کے معاملہ میں تکبر سے کام لیتے ہیں وہ ضرور جہنم میں رُسوا ہو کر داخل ہوں گے۔یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندہ کو اجازت دی کہ اپنی ہر ضرورت مجھ سے مانگو اور وعدہ کیا ہے کہ میں قبول کروں گا۔آیت کا اگلا حصہ وضاحت کرتا ہے کہ دعا نہ کرنا تکبر کی نشانی