خطابات مریم (جلد دوم) — Page 253
خطابات مریم 253 خطابات دعا کی مثال ایک چشمہ شیریں کی طرح ہے جس پر مومن بیٹھا ہوا ہے وہ جب چاہے اس چشمہ سے اپنے آپ کو سیراب کر سکتا ہے جس طرح ایک مچھلی بغیر پانی کے زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح مومن کا پانی دعا ہے کہ جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 45 نیا ایڈیشن ) حضور نے دعا کو فتح کا ہتھیار قرار دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔دعا ہی ایک ہتھیار ہے جس سے مومن ہر کام میں فتح پاسکتا ہے“۔پھر فرماتے ہیں :۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 39 نیا ایڈیشن ) ”ہم نہ تلوار سے جیت سکتے ہیں اور نہ کسی اور قوت سے۔ہمارا ہتھیار صرف دعا ہے اور دلوں کی پاکیز گی‘۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 299 ) قبولیت دعا کے متعلق قرآن مجید میں دوسرا الہی فرمان یہ ہے۔فرماتا ہے۔وإذا سألكَ عِبَادِي عَنِّي فَإنّي قريب أجيب دعوة الداع اذا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقره: 187) ترجمہ: اور اے رسول جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق پوچھیں تو تو جواب دے کہ میں اُن کے پاس ہی ہوں جب دعا کرنے والا مجھے پکارے تو میں اُس کی دعا قبول کرتا ہوں سو چاہئے کہ وہ دعا کرنے والے بھی میرے حکم کو قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں تا وہ ہدایت پائیں۔اس آیت میں بھی اپنے بندوں سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ میں دعا قبول کروں گا لیکن اس کے ساتھ ایک شرط یہ ہے کہ مجھ پر کامل ایمان ہو اور دوسری یہ کہ میرے حکم کو قبول کرنے والا ہو۔یہ دوشرطیں ہیں جو قبولیت دعا میں ممد ہیں۔اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھنا کہ وہ قادر ہے وہ کریم ہے وہ دعائیں سنتا ہے وہ جو چاہے دے سکتا ہے۔اس پر کامل ایمان رکھے اس کو موجود، سمیع ، بصیر، خبیر، علیم، متصرف اور قادر سمجھے۔دوسری شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود کو نہ توڑے اس کے حکموں پر چلے