خطابات مریم (جلد دوم) — Page 241
خطابات مریم 241 خطابات کے سمجھا کر بھی آتی ہیں پھر بھی بعض دیہات ایسے ہیں جہاں ایک بھی پڑھی ہوئی نہیں۔یا ہیں تو برائے نام یہ حالت افسوسناک ہے اور آئندہ کیلئے قابل فکر۔احمدی عورت جاہل نہیں ہونی چاہئے اسے پڑھنا لکھنا آنا چاہئے تا اُسے کام کا شعور پیدا ہو۔پس آئندہ سال کے لئے میں لجنات سے یہ درخواست کروں گی کہ وہ کوشش کر کے ہر عورت کو خواندہ بنا دیں۔یہ کام بہت مشکل نہیں ایک سال میں میسر نا القرآن پڑھا کر ہر عورت کو معمولی لکھنا پڑھنا سکھا دیں۔ہر شہر ہر قصبہ ہر گاؤں میں تھوڑا بہت لکھنا پڑھنا آ گیا تو خود ہی شوق پیدا ہوگا اور جو پڑھنا چاہیں گی وہ پڑھ لیں گی۔گاؤں میں کوئی نہ کوئی پڑھی لکھی ضرور مل جائے گی اگر کسی گاؤں میں ایک بھی لکھی پڑھی نہیں وہ مرکز سے رابطہ قائم کریں کچھ نہ کچھ کوشش اس سلسلہ میں کریں گے۔صبح کو گھروں میں کام ہوتے ہیں دو پہر یا شام کو ایک گھنٹہ بھی اس سلسلہ میں کوشش کی جائے تو بہت کامیابی ہو سکتی ہے۔علم کے حصول کے لئے بنیادی چیز یہ ہے کہ کلمہ، نماز اور قرآن کے ساتھ اُردو لکھنا پڑھنا ضرور آتا ہوتا اپنی اپنی استطاعت اور ذوق کے مطابق انسان علم حاصل کر سکے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب سب سے پہلی وحی نازل ہوئی تو آپ کو پڑھنے کا حکم ہوا۔اقرا باشم رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقرا وَرَبُّكَ الأَكْرَمُلُ الَّذِي عَلم بالقلون (العلق : 2 تا 5) گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہر مسلمان کے لئے یہ حکم ہے کہ وہ پڑھے اور علم حاصل کرے۔ایک مسلمان اور جہالت دو متضاد چیزیں ہونی چاہئیں۔لیکن افسوس کہ مسلمانوں نے علم کے حصول کی طرف اتنی توجہ نہ دی جو دینی چاہئے تھی اور دوسری قو میں علم میں آگے نکل گئیں۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ پر علم کے دروازے پھر سے کھولے اور اس سال تو خصوصیت سے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز پڑھنے کی طرف توجہ دلا رہے ہیں کہ ہر احمدی بچہ تعلیم حاصل کرے اور مڈل سے کم کسی احمدی بچی کی تعلیم نہیں ہونی چاہئے۔اقرا کے دو معنی ہیں۔ایک لکھے ہوئے کو پڑھنا۔دوسرے اعلان کرنا۔اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے ذریعہ ساری اُمت محمدیہ کو ارشاد ہوا کہ آپ دنیا کو بتا