خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 242 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 242

خطابات مریم 242 خطابات دیں کہ اُسے اُس کا رب بلاتا ہے اور یہ پیغام کسی ایک شخص کے لئے نہیں بلکہ ساری دنیا کے لئے اور ساری دنیا ہی اس کی مخاطب ہے۔چنانچہ اس کی تعمیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری دنیا کو اپنے رب کی طرف دعوت دی اور کہا کہ رات رسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف: 189) دوسرے معنوں کے لحاظ سے یہ پیشگوئی تھی کہ قرآن لکھا جائے گا اور ہمیشہ کے لئے محفوظ رہے گا۔جس کے سامان ابتداء سے ہی کر دیئے گئے کوئی بھی انسان جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور قرآن نہیں پڑھ سکتا۔اس کیلئے لمحہ فکر یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کا جو اقرا میں بیان کیا گیا ہے نافرمانی کر رہا ہے۔پس بہت بڑا اور وسیع کام ہے ہمارے سامنے کہ ہماری پوری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ہر اس عورت کو جو بالکل ہی ارذل العمر کو نہیں پہنچ گئی اور ہر اس بچی کو جو پڑھنے کی عمر تک پہنچ گئی ہو قرآن مجید پڑھائیں اور اردولکھنا پڑھنا سکھا دیں۔پس لجنات کا فرض ہے اجتماعی رنگ میں اور ہر ممبر لجنہ کا فرض ہے انفرادی طور پر اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے کہ وہ اپنی مصروفیت میں سے ایک گھنٹہ یا نصف گھنٹہ وقف کرے اس کام کے لئے کہ جہالت کو ہم نے دور کرنا ہے اور ہمارے اردگرد ہمارے گاؤں ، قصبہ یا شہر میں کوئی ایک عورت بھی ایسی ہے جو پڑھی ہوئی نہیں تو اُسے اُردو لکھنا پڑھنا سکھا دینا ہے۔اقرا باسم ربك الذي خَلَقَ کہہ کر فرما دیا کہ پڑھنے کی غرض یہی ہے کہ اپنے رب کے نام کا اعلان کر اور دنیا کو اس رب کی طرف دعوت دے جس نے ساری کائنات کو پیدا کیا۔پس حقیقی تو حید کے قیام کے لئے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے کے لئے علم حاصل کرنا بہت ضروری ہے جس کی طرف توجہ دینے کی بہت ضرورت ہے۔یہ نہیں کہ چند عورتیں تو بہت پڑھ گئیں اور باقی جاہل رہ جائیں۔احمدی عورتوں کو سو فیصدی ابتدائی دینی معلومات ہونی چاہئیں۔اپنی زبان میں لکھنا پڑھنا آنا چاہئے اور لجنات کو اس سال اور آئندہ آنے والے سالوں میں اس طرف بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔کئی سال سے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جماعت کو اس بات کی طرف توجہ دلا رہے ہیں کہ انشاء اللہ احمدیت کی اگلی صدی غلبہ اسلام کی صدی ہوگی۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے 1889ء میں دعوی فرما یا۔آپ اکیلے تھے اسلام پر ہر طرف سے حملہ ہو رہا تھا کیا عیسائی کیا ہندو کیا آریہ کیا دہر یہ ہر ایک کی کوشش تھی کہ اسلام