خطابات مریم (جلد دوم) — Page 224
خطابات مریم 224 خطابات ہیں ایک قربانی دینے والی نسل ختم ہو رہی ہے۔وہ بزرگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے فیض حاصل کیا یا حضرت خلیفہ اول کا زمانہ پایا یا حضرت مصلح موعود کا ابتدائی زمانہ دیکھا ان میں سے بہت سے رخصت ہو چکے ہیں جو بچے ہیں وہ خود بھی تربیت کے محتاج ہیں وہ خواتین جو ان بزرگوں کی بیٹیاں اور بہوئیں ہیں اور اگلی نسل کی مائیں ہیں ان پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اگر آپ ان کی طرف توجہ نہیں دیں گی ان میں مذہب کی محبت پیدا نہیں کریں گی ان میں فدائیت کا جذبہ پیدا نہیں کریں گی۔اللہ تعالیٰ کی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا شوق پیدا نہیں کریں گی تو وہ ایک مثالی احمدی بننے کی بجائے اردگرد کے ماحول سے متاثر ہوں گے۔پس آپ کی سب سے بڑی ذمہ داری سب سے بڑا کام اپنی اولا د کو دیندار بنانا ہے۔اچھے انسان بنانا ہے، اعلیٰ اخلاق ان میں پیدا کرنے ہیں۔قرآن مجید کا عامل بنانا ہے۔خاص طور پر لڑکیوں کو کیونکہ لڑکی نے اگلی نسل کی ماں بننا ہوتا ہے۔اس زمانہ میں احمد یہ جماعت کی خواتین اور بچیاں جس دجالی حربہ سے متاثر ہوئی ہیں وہ بے پردگی کا حربہ ہے۔ہر زمانہ میں آدم کے مقابلہ پر شیطان نے کوئی نہ کوئی حربہ استعمال کیا ہے اس زمانہ میں اُن حربوں میں سے ایک حربہ بے پردگی کا ہے۔گویا دوسرے الفاظ میں دنیا کو دین پر مقدم رکھنے کی تعلیم ہے۔اللہ تعالیٰ کے حکم کی صریح نافرمانی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی خلاف ورزی۔قرآن کے ایک حکم کو توڑنا غیر مسلموں کو اپنے پر ہنسنے کا موقع دینا کہ دعویٰ تو اسلام کا مگر قرآن کے ایک حکم پر ان کا اپنا ہی عمل نہیں اور یا درکھیں کہ کبھی بھی ہم ترقی نہیں کر سکتے جب تک ہمارے قول اور فعل میں کوئی تضاد ہوگا۔صرف پر وہ ہی نہیں اگر ایک احمدی بچی یا عورت سچ نہیں بولتی تو وہ اپنے عمل سے دنیا کو بتا رہی ہے کہ میں قرآن پر عمل نہیں کر رہی۔اس کی بات کا کیا اثر ہوگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور شان کا اظہار حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک چھوٹے سے فقرہ سے کیا۔جب کسی نے پوچھا کہ آپ کے اخلاق کے متعلق کچھ بتا ئیں تو آپ نے کہا۔کان خلقه القرآن (مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 91) جو قرآن کی تعلیم وہ دے رہے ہیں اسی پر آپ کا عمل ہے۔جو اخلاق قرآن میں بیان کئے گئے ہیں آپ میں سب پائے