خطابات مریم (جلد دوم) — Page 225
خطابات مریم 225 خطابات جاتے ہیں۔یہی خلاصہ ہے اسلام کی ساری تعلیم کا کہ عمل ایمان اور علم کے مطابق ہونا چاہئے جس کے لئے قرآن مجید کے گہرے مطالعہ کی ضرورت ہے۔پختہ ایمان کی ضرورت ہے۔پختہ ارادہ کی ضرورت ہے دعاؤں کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسے کی ضرورت ہے اپنی زندگیوں کو اس سانچہ میں ڈھالنے کی ضرورت ہے جس میں حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام آپ کو ڈھالنا چاہتے تھے۔وہ عشق کا سانچہ ہے محبت الہی کا سانچہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کا ذریعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل پیروی ہے۔خود آنحضرت عﷺ کی سیرت کا مطالعہ کریں اپنے بچوں کو ان کی عمروں اور ذہنوں کے مطابق واقعات سنا کر بتا کران کے دلوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور آپ کے نقش قدم پر چلنے کا شوق پیدا کریں۔ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ ہم میں سے کتنے ہیں جنہیں یہ خواہش اور شوق ہے کہ ہمارا بچہ دین کی خاطر زندگی وقف کرے ان کے ذہنوں میں ہم میں سے کتنے یہ بات ڈالتے ہیں ان کے لئے کتنی ہیں جو ایسا ماحول پیدا کرتی ہیں کہ بڑے ہو کر وہ دنیا پر دین کو مقدم رکھنے والے اور دین کی خاطر قربانی کرنے والے بنیں۔اگلے دس سال ہمارے لئے لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتے ہیں کہ اگلی صدی کے استقبال کے لئے ہم نے کیا تیاری کی ہے۔یہ بچے جو دس سال میں جوان ہوں گے کیا یہ اس قابل ہوں گے کہ عظیم ذمہ داریوں کو سنبھال سکیں۔پس بہت ضرورت ہے خود اپنے میں ایک تبدیلی پیدا کرنے کی۔اللہ تعالیٰ سورہ صف میں فرماتا ہے۔يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِّنْ عَذَابِ اليْم تُؤْمِنُونَ باللهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَ انْفُسِكُمْ ذلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (الصف: 11، 12) اے مومنو! کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت کی خبر دوں جو تم کو دردناک عذاب سے بچالے گی اور وہ تجارت یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرو اگر تم جانو تو یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے ساتھ مال اور جان سے جہاد کا حکم ہے۔جان سے جہاد کا مطلب ہے کہ نفس کو مارو۔نفس کی قربانی دو۔اپنی