خطابات مریم (جلد دوم) — Page 223
خطابات مریم 223 خطابات کی محبت تقاضا کرتی ہے کہ آپ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیعت لیتے ہوئے یہ عہد لیا کرتے تھے کہ دین اور دنیا کی عزت اور ہمدردی اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنی اولا د اور اپنے ہر ایک عزیز سے زیادہ تر عزیز سمجھے گا۔یہ وہی عہد ہے جس کی طرف قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قل ان كان اباؤُكُمْ وَابْنَاؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَازْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَ تُكُمْ وَامْوالُ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَ تِجَارَةً تَخْشَونَ كَسَادَهَا وَمَسْكِنُ تَرْضَوْنَهَا احَبَّ إِلَيْكُمْ مِّنَ اللهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ باشرة، والله لا يَهْدِى الْقَوْمُ الفَسِقِينَ (التوبه: 24) اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرمایا ہے کہ تو مومنوں سے کہہ دے کہ اگر تمہارے باپ دادے اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے دوسرے رشتہ دار اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارتیں جن کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور وہ مکان جن کو تم پسند کرتے ہو تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کے راستہ میں جہاد کرنے کی نسبت زیادہ پیارے ہیں تو تم انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنے فیصلہ کو ظاہر کر دے اور اللہ اطاعت سے نکلنے والی قوم کو کبھی کامیابی کا راستہ نہیں دکھاتا۔پس غلبہ اسلام کی مہم میں ہر احمدی عورت کا کردار یہ بھی ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے عزیز ہوں اور ان کے مقابلہ میں ماں باپ عزت مال جان سب پیچ ہوں جس کی قربانی کی ضرورت پڑے اسے قربان کرنا مشکل نہ ہو۔غلبہ اسلام کی مہم کے لئے جہاں مال کی ضرورت پڑے آپ مال حاضر کر دیں۔جہاں وقت دینے کا سوال ہو اپنے ضروری کام گھریلو ذمہ داریاں چھوڑ کر بھی اسلام کی ترقی کی خاطر وقت دیں جہاں اولاد کی قربانی کا سوال ہو جماعت کی ترقی اور مبلغین تیار کرنے کیلئے اپنی اولاد کو وقف کریں جہاں غیرت دینی دکھانے کے لئے اپنے دوستوں اقربا سے قطع تعلق کرنا پڑے کریں لیکن مقصود ہو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت اور دین کو دنیا پر مقدم کرنا۔میرے نزدیک اس وقت سب سے بڑی قربانی اولاد کی تربیت کرنا ہے جس زمانہ میں سے ہم گزر رہے