خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 154 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 154

خطابات مریم 154 خطابات میں اپنے کو رنگین کرنے کی کوشش کی کامیاب رہے اور دنیا نے پھر ایک مرتبہ آج سے چودہ سو سال قبل کا زمانہ دیکھ لیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت نے زندگیوں میں ایک مکمل انقلاب بر پا کر دیا۔پھر وہ لوگ آئے جنہوں نے ان صحابہ سے تربیت حاصل کی پھر ایک اور نسل آئی اور آہستہ آہستہ زمانہ لمبا ہونے کی وجہ سے تربیت میں کمی آگئی کیونکہ احمدیت کی نعمت ان کو ان کی کسی کوشش کے نتیجہ میں نہیں ملی بلکہ وہ پیدائشی طور پر احمدی تھے۔ماں باپ صحیح تربیت نہ کر سکے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے زمانہ کا بعد بڑھ گیا اور بہت سی کمزوریاں ہم میں پیدا ہو گئیں جن کو دور کرنے اور ان کی تلافی کیلئے ہمیں کوئی تدبیر سوچنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے روحانی چہرہ کو دیکھنے والے اور آپ کی صحبت سے مستفیض ہونے والے بہت کم رہ گئے ہیں جو کڑی ہیں ہمارے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درمیان۔ان کی زندگیوں سے فائدہ اُٹھانا ہمارا فرض اور ان کے نقش قدم پر چلنا ہماری ذمہ داری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ نے یہ مقام عشق و وفا ایک تلخ موت وارد کر کے حاصل کیا تھا۔موت وارد کی تھی اپنے جذبات پر اپنی خواہشات پر اپنی انا پر اور گردن رکھ دی تھی رضائے الہی کی چھری پر اور پیش نظر تھا صرف اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اطاعت مسیح موعود علیہ السلام۔اب بھی اپنی زندگیوں میں انقلاب اسی طرح لایا جا سکتا ہے اور کام آسان نہیں مشکل اور بے انتہا مشکل ہے مگر ایسا نہیں کہ ممکن ہی نہ ہو خصوصاً اس زمانہ میں جب کہ شیطان کا حملہ کبھی بے پردگی کی شکل میں، کبھی مغربیت کی تقلید کی شکل میں، کبھی غیر اسلامی روایات و عادات اختیار کرنے کی شکل میں، کبھی دین سے بے پروائی اور بے اعتنائی کی شکل میں ، کبھی قرآن سے لا تعلقی کی شکل میں ، کبھی نظام پر اعتراضات کی صورت میں ہر طرف سے ہو رہا ہے۔اپنا دامن بچانا دہریت اور لا مذ ہبیت اور شیطان کے نت نئے حملوں سے اپنے کو محفوظ رکھنا واقعی مشکل کام ہے۔ہماری مثال تو اس شعر کی ہے۔جے درمیان قعر دریا تخته بندم کرده ای باز می گوئی کہ دامن تر مکن ہوشیار باش لیکن ہم نے ہر حالت میں اپنے دامن کو بھیگنے نہیں دینا بلکہ خلافت سے اپنا مضبوط تعلق قائم کر کے