خطابات مریم (جلد دوم) — Page 153
خطابات مریم 153 خطابات کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔قوم کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھنا۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ نفس کی اصلاح اور اپنے میں سے عیوب دُور کرنے اور اخلاق پیدا کرنے کیلئے کیا ذرائع اختیار کئے جائیں۔حضرت مصلح موعود نے اپنی ایک تقریر میں اس پر روشنی ڈالی ہے۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ :۔سب سے پہلے تو ہر انسان کو اپنی بُرائیوں کا خود علم ہونا چاہئے کیونکہ غلطی کو غلطی سمجھ کر کوئی نہیں کرتا نہ کر سکتا ہے۔اس احساس کو پیدا کرنے کیلئے ہر انسان کو اپنا محاسبہ نفس کرنا چاہئے جب انسان کو معلوم ہو جائے کہ یہ بدی ہے، یہ نیکی ہے تو غور کرے کہ ان میں سے کونسی بدی ہے جو اس میں پائی جاتی ہے یا کونسی نیکی ہے جو نہیں پائی جاتی۔جو بُرائی پائی جاتی ہوا سے اپنے میں سے دُور کرنے کی کوشش کرے جو نیکی نہ پائی جاتی ہوا سے حاصل کرنے کی کوشش میں لگا رہے۔دوسرا طریق حضرت مصلح موعود نے یہ بتایا ہے کہ اپنے کسی گہرے دوست سے کہے کہ اس کے نفس کا مطالعہ کرے کیونکہ کبھی انسان اپنا عیب آپ نہیں معلوم کر سکتا اور عیب معلوم ہونے پر دُور کرنے کی کوشش کرے۔تیسرا طریق یہ اختیار کرے کہ جو عیب اسے خود دوسروں میں نظر آتے ہوں ان کے متعلق اپنے نفس کا جائزہ لے اور دیکھے کہ وہ خود اس میں تو نہیں پائے جاتے اور اس بات پر بھی غور کرتا رہے کہ دوسروں میں جو نیکیاں اور اخلاق نظر آتے ہیں وہ خود اس میں بھی ہیں یا نہیں۔چوتھے اور سب سے بڑھ کر یہ بھی غور کرے کہ اس کے دشمن اس پر کیا عیب لگاتے ہیں اور جو عیب لگاتے ہیں وہ واقعی اس میں پائے جاتے ہیں یا نہیں۔پانچواں طریق یہ ہے کہ تلاوت قرآن کریم سمجھ کر کرے جہاں وہ عیب پڑھے جو خدا تعالیٰ نے پہلی قوموں کے بیان کئے ہیں غور کرے مجھ میں تو نہیں پائے جاتے۔جہاں نیکیوں کا ذکر آئے غور کرے مجھ میں یہ پائی جاتی ہیں یا نہیں۔تلاوت کے وقت چونکہ خشیت اللہ پیدا ہوتی ہے اس لئے بدیوں سے بچنے اور نیکیوں کے اختیار کرنے میں بہت مدد ملے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جن لوگوں نے مانا اور بیعت کی انہوں نے آپ کے مبارک چہرہ کو دیکھا آپ کی صحبت پائی اور آپ کے کوچہ میں دھونی رمالی۔انہوں نے آپ کے رنگ