خطابات مریم (جلد دوم) — Page 155
خطابات مریم 155 خطابات حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اپنا عہد بیعت نبھاتے ہوئے شاہراہ غلبہ اسلام پر آگے ہی آگے بڑھنا ہے کیونکہ ایک نئے آسمان اور نئی زمین کی تخلیق جماعت احمدیہ سے ہی وابستہ ہے۔اس سلسلہ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا ایک نوٹ پیش کرتی ہوں جو آپ نے اپنے ایک مضمون میں جماعت کے نوجوان طبقہ سے مخاطب ہوتے ہوئے لکھا تھا۔آپ فرماتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب کشتی نوح کو دیکھو اس پیمانہ پر کتنے احمدی نو جوانوں کو معیاری احمدی سمجھا جا سکتا ہے مجھے جواب دینے کی ضرورت نہیں۔اپنی آنکھوں سے دیکھو اور اپنے دل سے جواب مانگو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں یہ تعداد خدا کے فضل سے بہت کافی تھی مگر اس کے بعد زمانہ کی دوری اور مخلص صحابیوں کی اموات کی کثرت نے قدیم سنت کے مطابق آہستہ آہستہ نقشہ بدلنا شروع کر دیا حتی کہ باغ احمد میں شیریں پیوندی پودوں کی جگہ ملے جلے کھٹے میٹھے تھی پودوں یعنی نسلی احمدیوں کی کثرت شروع ہو گئی اور اس کی وجہ سے نیکی کی روح میں انحطاط قربانی کے جذبہ میں کمی، باہمی اختلافات اور عملی کمزوریاں معاشرہ میں اُبھرنے لگیں۔انہیں باتوں کے دور کرنے کیلئے ہمارے آقا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دفعہ جب جنگوں کے بعد کچھ فرصت میسر آئی اور آپ نے محسوس کیا کہ وقتی فراغت سے صحابہ کی جماعت سست نہ ہو جائے آپ نے کمال حکمت سے فرمایا۔رَجَعْنَا مِنَ الجِهَادِ الأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الأَكْبَر۔اب ہم چھوٹے جہا د یعنی جنگوں سے فارغ ہو کر بڑے جہاد یعنی اخلاقی اور روحانی تربیت کی طرف لوٹ رہے ہیں۔( تاريخ بغداد للخطيب جلد 13 صفحہ 493) پس اس زمانہ میں ہمارا سب سے بڑا کام اور فرض جماعت کے بچوں کی تربیت کرنا ، ان میں دین سے محبت ، دین کے لئے غیرت اور دین کے لئے قربانی کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔انہیں شیطانی حملوں سے بچانا ہے تا کہ جب وہ بڑے ہوں ان کے دل دین کی محبت سے سرشار ہوں۔ایمان ان کے چہروں سے جھلکے۔قرآن کی عظمت ان کے دلوں میں ہو۔اُسوہ رسول اللہ علی