خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 150 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 150

خطابات مریم 150 خطابات ہو جائے اس کے وجود سے کسی کو نقصان نہ پہنچے۔قول اور فعل میں کوئی تضاد نہ ہو یہ ایک زریں نصیحت ہے جو میں اپنے آپ کو بھی کرتی ہوں اور اپنی سب بہنوں کو بھی کہ جب تک قول اور فعل میں ہمارے تضاد باقی رہے گا ہماری بات دوسرے کے دل پر اثر انداز نہ ہوگی لیکن جس دن یہ تضاد ختم ہوا اور قرآنی تعلیم کا نمونہ ہمارے وجود بن گئے خود بخود آپ کے بچے، ملنے جلنے والے آپ کے پیچھے چلیں گے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر نظر ڈالیں ساری زندگی کے واقعات پڑھ کر ایک بات بھی ایسی نہیں ملے گی کہ آپ کی اور دوسروں کی مصلحتیں ایک ہی ہوں۔مگر پھر بھی آپ نے دوسروں کے لئے اور حکم دیا ہو اور اپنے لئے کچھ اور تجویز کیا ہو۔پھر بعض انسان ایسے ہوتے ہیں کہ تنگی آئے یا تکلیف ہو تو بدخلق ہو جاتے ہیں بعض عیش میں خدا تعالیٰ کا احسان بھول جاتے ہیں تکبر پیدا ہو جاتا ہے اور بدخلق ہو جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ دونوں حالتیں عسر اور میسر کی وارد ہوئیں۔پورے کمال کے ساتھ وارد ہوئیں اور دونوں حالتوں میں آپ اعلیٰ اخلاق کے مقام پر فائز رہے۔اُس مقام پر کہ کوئی انسان آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔لیکن جوں جوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے دوری ہوتی گئی اسلام کی زریں تعلیم پر عمل کرنا مسلمان بھولتے گئے وہی قرآن جس پر عمل کرنے کے نتیجہ میں مسلمانوں نے ساری دنیا پر فوقیت حاصل کی اس قرآن کا دامن جب چھوڑا، پڑھا تو سہی مگر عمل نہ کیا تو مسلمان تنزل کے گڑھے میں گرتے چلے گئے مگر رب العالمین جو انسان کو بھٹکتا ہوا نہیں چھوڑ سکتا اس کی رحمت پھر جوش میں آئی پھر قرآن کی تعلیم کو رائج کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے مہدی علیہ السلام کو بھیجا کہ آپ دنیا کو بتائیں کہ کامل تعلیم ، زندہ تعلیم ، پر امن معاشرہ قائم کرنے والی تعلیم ، دنیا میں امن اور محبت پیدا کرنے والی تعلیم ، انسان کو با اخلاق اور پھر با اخلاق سے با خدا بنانے والی تعلیم صرف اور صرف قرآن کی تعلیم ہے اور یہی تعلیم باقی رہنے والی تعلیم ہے اور باقی رہے گی۔حضرت مصلح موعود نے اپنی تقاریر میں اخلاق پر بڑی سیر کن بحث فرمائی ہے آپ نے قرآن مجید کی یہ آیت اخلاق کی تعریف کے طور پر پیش فرمائی ہے۔فَأَمَّا مَن ثَقُلتُ مَوَازِينُهُ فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ