خطابات مریم (جلد دوم) — Page 149
خطابات مریم 149 خطابات نہیں کرتا اور امور معروفہ میں جو خلاف قرآن نہیں ہیں اُن کی بات کو نہیں مانتا اور ان کی تعهد خدمت سے لا پروا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے جو شخص اپنی اہلیہ اور اُس کے اقارب سے نرمی اور احسان کے ساتھ معاشرت نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔جو شخص اپنے ہمسایہ کو ادنی ادنیٰ خیر سے بھی محروم رکھتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے جو شخص نہیں چاہتا کہ اپنے قصور وار کا گناہ بخشے اور کینہ پرور آدمی ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے ہر ایک مرد جو بیوی سے یا بیوی خاوند سے خیانت سے پیش آتی ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے جو شخص اُس عہد کو جو اُس نے بیعت کے وقت کیا تھا کسی پہلو سے توڑتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں“۔(روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 19،18) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان الفاظ کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر انسان دوسرے انسان کا حق ادا کرے اور کسی قسم کا ظلم اس پر نہ کرے۔دنیا میں تمام فتنہ وفسا ظلم کی وجہ سے ہوتے ہیں اگر ایک انسان کم از کم اس درجہ پر پہنچ جائے جس میں وہ ترک شہر پر قادر ہو جائے یعنی اگر نیکی نہ بھی کر سکے تو کم از کم کسی سے بُرائی نہ کرے تو اخلاق کا یہ درجہ گوسب سے نچلا درجہ ہو گا لیکن اس کی زبان یا ہا تھ سے تو کسی کو تکلیف نہیں پہنچے گی۔لیکن اس سے بڑھ کر درجہ یہ ہوتا ہے کہ نہ صرف تکلیف اس سے کسی وجود کو نہ پہنچے بلکہ خیر اس کے ذریعہ سے دوسروں کو پہنچے اور اسی کا ہے۔نام خلق ہے۔ترک شر میں وہ تمام باتیں آجائیں گی جس کے ذریعہ سے ایک انسان کوشش کرتا ہے کہ میرے ذریعہ کسی کے مال کو ، کسی کی جان کو ، کسی کی عزت کو شہرت کو اور وقار کو کوئی بھی نقصان نہ پہنچے۔کسی کو اس پر بدظنی کرنے کا موقعہ نہ ملے اسی لئے اسلام نے غیبت سے روکا ہے۔بہتان لگانے سے منع کیا ہے۔بدظنی کرنے سے منع کیا۔امانت و دیانت پر زور دیا ہے۔افواہ پر یقین کرنے سے منع کیا ہے جب تک ثبوت نہ ہو۔خراب سامان فروخت کرنے سے روکا ہے، پورا ماپ اور پورا وزن دینے کی تاکید فرمائی ہے کیونکہ ان باتوں کی خلاف ورزی ظلم ہے اور ظلم کسی صورت میں جائز نہیں اس لئے ہر انسان کی پہلی کوشش تو یہی ہونی چاہئے کہ وہ ترک شر پر قادر