خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 151 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 151

خطابات مریم 151 خطابات فاتُه مَاويّة (القارعة 7 تا 10 کہ جس کی نیکیاں زیادہ ہوں وہ اچھے اخلاق والا ہے اور جس کی بدیاں زیادہ ہوں وہ بداخلاق ہے۔پس ہمیں پوری کوشش کرتے رہنا چاہئے کہ نیکی کرنے کا چھوٹے سے چھوٹا موقعہ بھی ضائع نہ ہونے دیں تا کہ نیکیوں کے پلڑے کا وزن بھاری ہوتا چلا جائے۔بعض لوگوں کے نزدیک اخلاق کی اصلاح ممکن نہیں یہ غلط ہے۔قرآن کی تعلیم کے مطابق اخلاق کی اصلاح ممکن ہے جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔نذیر اِن نَفَعَتِ الذِّكْرَى (الاعلى: 10) کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ لوگوں کو نصیحت کیا کریں۔کیونکہ نصیحت ہمیشہ ہی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔پس اس آیت کی رُو سے نصیحت کے ذریعہ اخلاق کی اصلاح ہر حالت میں ہوسکتی ہے۔ہاں نصیحت اعتراض کے رنگ میں نہ ہو بلکہ اصلاح کی خاطر محبت اور خلوص اور درد کی جھلک لئے ہوئے ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس سلسلہ میں جو الفاظ فرمائے ہیں وہ روحانی زندگی میں دل کو اُمید سے پُر کر دینے والے ہیں آپ فرماتے ہیں:۔یہ خیال نہ کرو کہ ہم گناہ گار ہیں۔ہماری دعا کیونکر قبول ہوگی انسان خطا کرتا ہے مگر دعا کے ساتھ آخر نفس پر غالب آ جاتا ہے اور نفس کو پامال کر دیتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے انسان کے اندر یہ قوت بھی فطرتا رکھ دی ہے کہ وہ نفس پر غالب آ جائے دیکھو پانی کی فطرت میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ وہ آگ کو بجھا دے۔پس پانی کو کیسا ہی گرم کرو اور آگ کی طرح کر دو پھر بھی جب وہ آگ پر پڑے گا تو ضرور ہے کہ آگ کو بجھا دے جیسا کہ پانی کی فطرت میں برودت ہے ایسا ہی انسان کی فطرت میں پاکیزگی ہے۔ہر ایک شخص میں خدا تعالیٰ نے پاکیزگی کامادہ رکھ دیا ہوا ہے۔اس سے مت گھبراؤ کہ ہم گناہ میں ملوث ہیں۔گناہ اس میل کی طرح ہے جو کپڑے پر ہوتی ہے اور دور کی جاسکتی ہے۔تمہارے طبائع کیسے ہی جذبات نفسانی کے ماتحت ہوں خدا تعالیٰ سے کر دعا کرتے رہو تو وہ ضائع نہیں کرے گا وہ علیم ہے وہ غفور الرحیم ہے“۔سے رور ( بدر 17 / جنوری 1907ء) پس اس سارے مضمون کا خلاصہ یہ ہوا کہ اگر انسان کے اخلاق پست ہو جائیں وہ گنا ہوں