خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 146 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 146

خطابات مریم 146 خطابات حالت سے اُٹھا کر انسان بناتا ہے اسے وہ ابتدائی اخلاق سکھا کر درجہ بدرجہ ترقی دیتا ہے اور آخر میں اُسے باخدا بنا کر روحانی ترقی کے اعلیٰ مدارج حاصل کرنے کے قابل بنا دیتا ہے۔اسلام چھوٹے سے چھوٹے معاملہ سے لے کر بڑی سے بڑی چیز تک میں ہماری راہ نمائی کرتا ہے اور کھانے پینے چلنے پھرنے اور باتیں کرنے کے آداب بھی سکھاتا ہے اور پھر انسان کو باخدا انسان بنانے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ان تمام اسلامی آداب و اخلاق کو پہلے سمجھیں اور سیکھیں اور پھر ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ اس کے بغیر نہ ہم خدا تعالیٰ کا پیار حاصل کر سکتے ہیں اور نہ دنیا میں اسلام کو قائم کر سکتے ہیں۔یہ درست ہے کہ غلبہ اسلام بہر حال مقدر ہے لیکن یہ کام فرشتوں نے آ کر نہیں کرنا یہ ہم نے کرنا ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم صحیح ذرائع اختیار کریں۔پہلے خود اسلامی آداب اور اخلاق کو سیکھیں اور پھر اپنی اولا دوں کو سکھائیں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔۔۔۔جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ وہ اس کے لئے ابھی سے تیار ہو جائیں اور اپنی کمریں کس لیں۔ہمیں پہلے اپنی فکر کرنی چاہئے پھر اپنی عورتوں اور آئندہ نسلوں کی فکر کرنی چاہئے۔خدا کرے ہم اس میں کامیاب ہو جائیں اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو ایسے طور پر ڈھالیں کہ ان میں اسلامی آداب و اخلاق کا نمونہ نظر آئے“۔الفضل 29 دسمبر 1975ء صفحہ 2) اس تربیتی مجاہدہ کی ذمہ داری صرف مردوں پر نہیں ، بلکہ جتنی مردوں پر ہے اتنی ہی عورتوں پر بھی ہے بلکہ عورتوں پر زیادہ ہے کیونکہ بچوں کی تربیت ماں کی گود میں ہوتی ہے۔اس لئے اگر آپ کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہے اور اس عظیم الشان مجاہدہ کی شمولیت کا شوق ہے جس کی شاہراہ منزل غلبہ اسلام تک پہنچتی ہے تو ہمیں تمام احکام اسلامی کا علم ہونا چاہئے کہ زندگی کے ہر موڑ ہر منزل ہر قدم اور ہر کام کے متعلق اللہ تعالیٰ کا کیا حکم ہے؟ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کیا تفصیل بیان فرمائی ہے؟ کیا ہدایات دی ہیں؟ پھر اپنے نفس کا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا ہمارا اس پر عمل ہے یا نہیں اور ہمارے بچے ان پر عمل کرتے ہیں یا نہیں اگر نہیں تو آج سے